’یہود دشمن ہوئے بغیر اسرائیل پر کیسے تنقید کی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Tumblr
Image caption اس بلاگ میں ان افراد کے لیے 19 ٹوٹکے دیے گئے ہیں جو اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں اور ہلاکتوں میں اضافے کے بعد انٹرنیٹ پر ایک بلاگ کو بہت شیئر کیا جا رہا ہے جس کا عنوان ہے: ’یہود دشمن ہوئے بغیر اسرائیل پر کیسے تنقید کی جائے؟‘

اس بلاگ کا آغاز کچھ ایسے ہوتا ہے: ’اگر آپ نے اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کا مطالعہ کیا ہو تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے ایک بات ضرور سنی ہو گی اور وہ یہ ہے کہ یہودی سمجھتے ہیں کہ اسرائیل پر کسی قسم کی تنقید یہود دشمنی ہے۔‘

اس بلاگ میں ان افراد کے لیے 19 ٹوٹکے دیے گئے ہیں جو اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ ان ٹوٹکوں میں زیادہ تر یہ بتایا گیا ہے کہ کیا کہنے سے اجتناب کریں۔

مثال کے طور پر اس بلاگ میں کہا گیا ہے کہ ’جب آپ کا مطلب اسرائیل کہنا ہو تو کبھی بھی یہودی نہ کہیں،‘ یا پھر ’میں یہود دشمن نہیں ہو سکتا کیونکہ میرے کچھ دوست یہودی ہیں!‘

بلاگ میں کہا گیا ہے کہ توسیعی الفاظ سے پرہیز کریں جیسے کہ اسرائیلی ’خون کے پیاسے‘ ہیں۔ اس بلاگ میں لفظ ’صیہونیت‘ پر بھی تفصیل سے بات کی گئی ہے۔

اس بلاگ کو گذشتہ چند روز میں بہت زیادہ شیئر کیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹمبلر پر اس بلاگ پر 8000 سے زیادہ نوٹس آئے ہیں جبکہ اسے فیس بک، ٹوئٹر، ریڈٹ جیسی ویب سائٹس پر بھی ہزاروں بار شیئر کیا جا چکا ہے۔

اگرچہ اس بلاگ پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے لیکن جن تاریخوں میں اس کو شیئر کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ بلاگ ایک سال قبل لکھا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر یہ بات بہت عام ہے کہ ایک چیز کافی عرصے بعد دوبارہ مشہور ہو جاتی ہے۔

جن ممالک میں یہ بلاگ ٹوئٹر پر سب سے زیادہ شیئر کیا جا رہا ہے ان میں امریکہ، برطانیہ اور سویڈن شامل ہیں۔ ٹوئٹر پر ایک تبصرہ اس بلاگ کے بارے میں تھا: ’سو فیصد پڑھنا ضروری ہے‘ جبکہ ایک اور تبصرہ تھا ’موجودہ حالات میں بہت اہم ہے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بلاگ کو اسرائیل میں کوئی اہمیت نہیں ملی۔ اسرائیل سے ایک تبصرہ یہ تھا: ’اگر آپ لبرل احمق ہونا چاہتے ہیں تو ’یہود دشمن ہوئے بغیر اسرائیل پر کیسے تنقید کی جائے‘ پڑھیے۔‘

ٹمبلر پر اس بلاگ کے لکھنے والے کا نام نہیں ہے اور نہ ہی لکھنے والے نے انٹرویو کے لیے کی جانے والی درخواستوں کا کوئی جواب دیا ہے۔ تاہم اس بلاگر کے دیگر بلاگز سے یہ بات صاف ہے کہ وہ امریکن ہیں جو یہودی ہو گئے ہیں۔

اس بلاگ میں ایک اور پوسٹ بھی ہے جس کا عنوان ہے: ’نسل پرست ہوئے بغیر اسرائیل کی حمایت کیسے کریں۔‘

اس بلاگ میں بھی کچھ نکات دیے گئے ہیں جن سے پرہیز کیا جائے۔ مثال کے طور پر ’فلسطینیوں کو جانور یا جنگلی مت کہو‘ اور ’جب آپ فلسطینی کہنا چاہتے ہوں تو عرب مت کہیں۔‘

اس بلاگ میں مزید کہا گیا ہے: ’اگر آپ چاہتے ہیں فلسطینی اور ان کے حلیف یہود دشمن نہ ہوں، تو آپ کو بھی نسل پرستی چھوڑنی ہو گی۔‘

اسی بارے میں