موبائل فون مارکیٹ میں مندی، سام سنگ کا منافع 20 فیصد کم

Image caption سام سنگ کے منافعے کا بڑا حصہ سمارٹ فون کی فروخت سے آتا ہے

2014 کی دوسری سہ ماہی میں سام سنگ الیکٹرانکس کے منافعے میں 20 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جس کی بڑی وجہ سمارٹ فون کی فروخت میں کمی اور جنوبی کوریا کے سکے کی قدر میں اضافہ ہے۔

سام سنگ نے اپریل سے جون کے عرصے میں ساڑھے 62 کھرب ون (چھ ارب دس کروڑ ڈالر) کمائے، جب کہ گذشتہ برس اسی دوران اس کا منافع 77.7 کھرب وون تھا۔

گذشتہ سہ ماہی کے مقابلے پر سام سنگ کا منافع 17 فیصد کم ہوا ہے۔

جنوبی کوریائی کمپنی سام سنگ دنیا میں موبائل فون بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور اس کے منافعے کا بڑا حصہ موبائل فون کی فروخت سے آتا ہے۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا: ’دوسری سہ ماہی میں کئی عوامل درپیش رہے، جن میں دنیا میں سمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی مانگ میں کمی اور مارکیٹنگ کا بڑھتا ہوا خرچ شامل ہیں۔‘

اسی دوران کوریا کے سکے کی بڑھتی ہوئی قدر نے بھی سام سنگ کے منافعے کو متاثر کیا ہے۔ جولائی 2013 اور اس سال جون کے آخر تک امریکی ڈالر کے مقابلے پر وون کی قدر میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔

سام سنگ کی طرح برآمدات پر انحصار کرنے والی کمپنیوں کو مضبوط سکے کا نقصان ہوتا ہے کیونکہ اس طرح انھیں بیرونی ممالک سے کم پیسہ وصول ہوتا ہے۔

سام سنگ نے کہا ہے کہ وون کی مضبوطی سے انھیں ’50 ارب وون تک کا نقصان ہوا ہے۔‘

نوکیا نے اپنے گیلیکسی موبائل فون کی عالمگیر مقبولیت کے باعث 2012 میں نوکیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی موبائل کمپنی بننے کا اعزاز حاصل کر لیا تھا۔

تاہم اس کے بعد سے سمارٹ فونز کی کل مارکیٹ میں کمی آتی جا رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مقابلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

چین کی کئی فون کمپنیاں میدان میں آ گئی ہیں جو سام سنگ کی مارکیٹ پر اثرانداز ہو رہی ہیں، ان میں شائیومی، ہواوے اور زیڈ ٹی ای شامل ہیں۔

شدید مقابلے کی وجہ سے فون ساز کمپنیوں کو صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے قیمتوں میں کمی لانا پڑی ہے، جس سے ان کا منافع متاثر ہوا ہے۔

سام سنگ کا کا مزید کہنا تھا:

’سام سنگ کو توقع ہے کہ جدید ترین مصنوعات اور نت نئے ماڈل متعارف کروائے جانے سے اس کی موبائل ڈیوائسز کی فروخت بڑھے گی، لیکن قیمتوں پر سخت مقابلے کی وجہ سے منافعے میں کمی آ سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں