ناسا کا 2020 مشن مریخ پر آکسیجن بنانے کی کوشش کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ناسا کے آئیندہ مشن میں کاربن ڈآئی آکسائیڈ کو آکسیجن گیس میں تبدیل کیا جائے گا اور اس کی مدد سے وہاں جانے والے خلابازوں کو بھی مدد مل سکتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ راکٹ کے لیے واپسی کا ایندھن بھی بن سکتا ہے

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا ہے کہ وہ سات سال بعد یعنی دو ہزار اکیس میں سرخ سیارے ’مریخ‘ پر بھجوائے گئے مشن میں آکسیجن بنانے کی کوشش کرے گا۔

مستقبل میں مریخ پر انسانی مشن بھجوانے اور وہاں زندگی کی موجودگی کے آثار کا ٹھوس بنیادوں پر پتہ لگانے کے لیے ناسا کی خلائی گاڑی میں کُل سات سائنسی منصوبوں کے بنیادی لوازمات موجود ہوں گے۔

اطلاعات کے مطابق ناسا کے آئندہ مشن میں کاربن ڈآئی آکسائیڈ کو آکسیجن گیس میں تبدیل کیا جائے گا اور اس کی مدد سے وہاں جانے والے خلابازوں کو بھی مدد مل سکتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ راکٹ کے لیے واپسی کا ایندھن بھی بن سکتا ہے۔

آئندہ مریخ پر جانے والے مشن میں ایک تجرباتی موسمیاتی سٹیشن بھی شامل ہوگا جس کا وزن 40 کلو کے برابر بتایا جاتا ہے۔

وشنگٹن میں ناسا کے منتظم جان گرنفلڈ نے 2020 کے لیے ماس کے ’سائنٹفک پے لوڈ‘ کا اعلان ان الفاظ میں کیا ’یہ حقیقتاً ہمارے لیے بہت دلچسپ اور سنسنی خیز دن ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کا ماڈل اگست 2012 میں مریخ پر بھجوائے جانے والی خلائی گاڑی’ کیوروسٹی‘ سے ملتا جلتا ہے اور اس کی تیاری پر ایک اعشاریہ نو ارب امریکی ڈالر خرچ آئے گاجبکہ اس کا وزن ایک ٹن ہے۔

کیوروسٹی کی نسبت 2020 کے مشن کے لیے تیار کی جانے والی خلائی گاڑی میں جگہ زیادہ ہو گی جس میں مریخ سے لیے جانے والے چٹانوں کے نمونے شامل ہوں گے۔

اگرچہ اس وقت بھی ناسا کی جانب سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن میں تبدیل کیا جاتا ہے تاہم یہ پہلی بار ہو گا کہ نئے آلے جسے ’موکسی‘ کا نام دیا گیا ہے کی مدد سے خلاء باز کے گرد کاربن ڈائی آکسائینڈ کو آکسیجن میں بدلنے کا تجربہ کیا جائے گا۔

اس آلے کی تیاری میں شامل ماہر پروفیسر ٹام پائیک نے اس نئی کوشش کو ’شفٹ ان گیئرز‘ کا نام دیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ’ چاند کے بعد ایسی جگہیں بہت زیادہ نہیں جہاں انسان جا سکے میں عملی طور پر کہوں گا کہ اس فہرست میں ایک مریخ بھی ہے۔‘

اسی بارے میں