یو ایس بی سے وائرس کی منتقلی، ’بچاؤ کا کوئی طریقہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چار سال قبل ایران کے جوہری نظام میں جو وائرس آیا تھا وہ بھی یو ایس بی کے ذریعے داخل ہوا تھا

کمپیوٹر ماہرین نے یو ایس بی کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے استعمال کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں۔

جرمنی کے شہر برلن میں کارسٹن نوہل اور جیکب لیل نامی محققین نے کمپیوٹر میں یو ایس بی کے ذریعے خفیہ وائرس کی منتقلی کا طریقہ کار دکھاتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے بچنے کے لیے کوئی جامع حفاظتی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

تاہم یو ایس بی کے عالمی انتظامی ادارے نے کہا کہ اضافی حفاظتی تدابیر کے لیے یو ایس بی کو مزید محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق یو ایس بی اگر بالکل خالی ہو تب بھی اس میں وائرس آ سکتا ہے اور یہ موبائل فون کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

نوہل نے صحافیوں سےبات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دنیا کا خاتمہ نہیں ہے لیکن یہ ہمیں اگلے 10 برس تک آہستہ آہستہ اثر کرے گا۔ مختصر یہ کہ آپ یو ایس بی پر پوری طرح بھروسہ نہیں کرسکتے۔‘

یو ایس بی پوری دنیا میں ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کا ایک آسان اور تیز ترین ذریعہ ہے۔ اس سے وائرس کمپیوٹر میں داخل ہو جاتے ہیں جو کہ بعد میں کمپیوٹر کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

چار سال قبل ایران کے جوہری نظام میں جو وائرس آیا تھا وہ بھی یو ایس بی کے ذریعے داخل ہوا تھا۔ اس وائرس نے ایران کے جوہری نظام کو بری طرح نقصان پہنچایا تھا۔

یو ایس بی کے استعمال سے پہلے لوگ ڈیٹا ٹرانسفر کے لیے فلوپی ڈسک کا استعمال کیا کرتے تھے۔

یو ایس بی کی مقبولیت کی ایک بہت بڑی وجہ اس کا کنیکٹر تھا جو کہ کمپیوٹر کے علاوہ اور بہت سے الیکٹرانک آلات میں لگ سکتا ہے۔

ان آلات میں یو ایس بی کے لگتے ہی یہ آلہ صارف کو بتا دیتا ہے کہ یہ کس قسم کی یو ایس بی ہے۔

نوہل نے بی بی سی کو یو ایس بی میں وائرس ڈال کر دکھایا جو کہ کمپیوٹر سے لوگوں کے پے پال اکاؤنٹ چرانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

اسی بارے میں