دنیا کے پہلے سمارٹ فون کی بیسویں سالگرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئی بی ایم کے سائمن کو آج کے سمارٹ فون کا پیش رو کہا جاتا ہے

کسی فون کو اس کی ظاہری بناوٹ سے نہ پرکھیں۔ یہ کالا ایک مضبوط بکس نما فون دراصل دنیا کا پہلا سمارٹ فون ہے۔

آئی بی ایم کا سائمن نامی یہ فون 16 اگست سنہ 1994 کو عوام کے لیے بازار میں لایا گیاتھا جس میں مختلف موبائل ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کی خصوصیات کو یکجا کر دیا گیا تھا۔

اس کی 20 ویں سالگرہ منانے کے لیے لندن سائنس میوزیم اپنی نئی گیلری نیو انفارمیشن ایج میں اس کی نمائش کر رہا ہے۔

اس میوزیم کی کیوریٹر شارلٹ کونیلی نے کہا: ’اس وقت سائمن کو سمارٹ فون نہیں کہا جاتا تھا۔‘

لیکن اس میں بہت سی ایسی خصوصیات تھیں جو ہمیں آج کے فون میں نظر آتی ہیں۔ اس پر نوٹ لکھا جا سکتا تھا، اس سے ای میل اور میسجز کیے جا سکتے تھے اور یہ سب اس سیل فون کے ذریعے ممکن تھا۔

نصف کلوگرام کے وزن والا یہ فون جیب میں پوری طرح سے فٹ نہیں آتا تھا۔ بہر حال کونیلی کا اصرار ہے کہ یہ اپنے زمانے سے بہت آگے کی چیز تھا۔

انھوں نے کہا: ’یہ آپ کو کالے رنگ کے بلاک کی طرح نظر آتا ہے لیکن یہ اتنا بڑا بھی نہیں جتنا آپ تصور کرتے ہیں۔ اس میں ایک سٹائلیوس (پنسل نما چیز سے بٹن کو دبایا جاتا ہے) اور سبز رنگ کی ایل سی ڈی سکرین تھی جو آئی فون-4 کے سائز کی تھی۔ درحقیقت یہ دیھکنے میں بدصورت نہیں تھی۔‘

قمیت اور سہولیات

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption انفارمیشن ایج گیلری میں 800 سے زیادہ مصنوعات کی نمائش کی جائے گی جس کے ذریعہ یہ دکھایا جائے گا کہ گذشتہ 200 سال میں موصلات نے کتنا سفر طے کیا ہے

آئی بی ایم کا یہ فون ایسا پہلا موبائل فون تھا جس میں ایسے ایپ یا سافٹ ویئر تھے جسے کسی فیکس مشین سے منسلک کیا جا سکتا تھا۔

یہ امریکہ میں صارفین کے لیے دستیاب تھا اور امریکہ کی 15 ریاستوں میں اس کا نیٹ ورک تھا۔ اس کے تقریبا 50 ہزار فون سیٹ فروخت ہوئے تھے۔

یہ موبائل بطور خاص تاجروں میں مقبول ہوا تھا جو یہ چاہتے تھے کہ ان کے پاس ایسا فون ہو جو منی کمپیوٹر کا کام بھی کرے۔

بہرحال زیادہ قیمت اور زیادہ دیر تک نہ چلنے والی بیٹری کی وجہ سے یہ مارکیٹ میں آنے کے دو برس بعد بازار سے رفتہ رفتہ غائب ہو گیا۔

مز کونیلی نے بتایا: ’اس میں صرف ایک گھنٹے تک کام کرنے والی بیٹری تھی اور اس کی قیمت 899 امریکی ڈالر تھی جبکہ اس وقت کوئی دوسرا موبائل انٹرنیٹ نہیں تھا۔ اس لیے یہ بہت کامیاب نہیں ہوسکا۔‘

مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تاریخ کے لیے پہلی مخصوص برطانوی گیلری میں ’انفارمیشن ایج‘ کی نمائش کے طور پر اکتوبر میں اس کی نمائش کی جائے گی۔

اس میں 800 سے زیادہ مصنوعات کی نمائش کی جائے گی جس کے ذریعہ یہ دکھایا جائے گا کہ گذشتہ 200 سال میں مواصلات نے کتنا سفر طے کیا ہے۔

مسز کونیلی نے کہا کہ اس نمائش میں ان مختلف ادوار پر روشنی ڈالی جائے گی جب ذرائع مواصلات محدود ہونے کے باعث موجودہ دور کی کنیکٹیوٹی یعنی رابطوں جیسی سہولت نہیں تھی۔

اسی بارے میں