ہریانہ کے 16 سالہ عرش کی گوگل میلے میں دھوم

تصویر کے کاپی رائٹ INDIEGOGO
Image caption ہریانہ کے عرش شاہ 12ویں جماعت کے طالب علم ہیں اور وہ یہاں اپنی ایجاد کا مظاہرہ کر رہے ہیں

قوت گویائی سے محروم اور مفلوج مریضوں کے لیے سستا مواصلاتی نظام بنانے والے ہریانہ کے 16 سالہ طالب علم عرش شاہ عرف ’روبو‘ کو گوگل سائنس میلے کا فائنلسٹ منتخب کیا گیا ہے۔

دنیا کی تقریباً ڈیڑھ فیصد آبادی پاركنسنز، فالج اور لقوے جیسی بیماریوں سے دوچار ہے اور یہ لوگ عام افراد کی طرح بات چیت نہیں کر پاتے ہیں۔

یہ لوگ کلام کرنے یا مکالمے کے لیے سانسوں کے اشارے کو سمجھنے والے آلات پر منحصر ہوتے ہیں۔

بھارتی دارالحکومت دہلی سے ملحق شہر پانی پت میں 12 ویں جماعت کے طالب علم اور روبوٹکس میں دلچسپی رکھنے والے عرش کا کہنا ہے کہ نہ بول پانے والے افراد کی مدد کے لیے موجودہ مشینیں سائز میں بڑی اور بہت مہنگی ہوتی ہیں اور لوگوں کو کم قیمت متبادل فراہم کرنے کے لیے انھوں نے جیبی آلہ ’ٹاک‘ بنایا ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ٹاک کو جیب میں باآسانی رکھا جا سکتا ہے اور اس کی قیمت پانچ سے سات ہزار بھارتی روپے کے درمیان ہے۔ عام طور پر ایسے دوسرے آلات کے لیے لاکھوں روپے لگ جاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ INDIEGOGO
Image caption عرش کے مطابق یہ آلہ سائز کے اعتبار سے نسبتاً چھوٹا اور جیب میں فٹ ہو جاتا ہے

عرش کے مطابق: ’ٹاک ایک بریتھ سینسر یعنی سانسوں کی لے کو محسوس کرنے والے آلے کے ساتھ منسلک ہوتا ہے، جو مریض کے کان پر فٹ ہوتا ہے اور اس کا سینسر ٹھیک ناک کے نیچے ہوتا ہے۔‘

مریض ’مورس کوڈ‘ کی بنیاد پر اپنی سانسوں کے نشیب و فراز اور نمونے کے ذریعے سگنل فراہم کرتے ہیں۔

عرش کا کہنا ہے کہ ٹاک ان اشاروں کو آڈیو پیغامات میں تبدیل کر دیتا ہے۔ جن جملوں کا استعمال اکثر و بیشتر ہوتا ہے ان کے لیے شارٹ كوڈ یعنی مخففات بھی موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ INDIEGOGO
Image caption عرش کا کہنا ہے کہ اس میں مورس کوڈ کا استعمال کیا گیا ہے اور شارٹ کوڈ بھی موجود ہیں

ماہرین کا خیال ہے کہ اس آلے سے ان مریضوں کو فائدہ ہو گا، جو کسی بیماری کی وجہ سے قوتِ گویائی سے محروم ہو جاتے ہیں یا پھر جنھیں بولنا یا منھ کو حرکت دینا منع ہوتا ہے۔

اس آلے کو عام لوگوں کی دسترس تک پہنچانے کے لیے عرش نے ’كراؤڈ فنڈنگ‘ یعنی عوام سے ملنے والی امداد کا راستہ اختیار کیا ہے اور ان کے مطابق مارچ سنہ 2015 تک ’ٹاک‘ بازار میں آ جائے گا۔

سائنس فیئر کے لیے گوگل نے دنیا بھر سے 15 فائنلسٹس کو منتخب کیا ہے جن میں ایشیا سے منتخب ہونے والے عرش واحد فرد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ INDIEGOGO
Image caption ٹاک ایک بریتھ سینسر یعنی سانسوں کی لے کو محسوس کرنے والے آلے کے ساتھ منسلک ہوتا ہے، جو مریض کے کان پر فٹ ہوتا ہے اور اس کا سینسر ٹھیک ناک کے نیچے پہنچتا ہے

گوگل سائنس فیئر سنہ 2014 کے فاتح کا اعلان ستمبر میں کیا جائے گا۔

اس مقابلے کے فاتح کو 50 ہزار ڈالر کے سکالر شپ کے ساتھ ورجن گیلكٹك سپیس شپ میں گھومنے کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں