’ایبولا کی رفتار اور پھیلاؤ بےمثال ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایبولا سے مغربی افریقہ کے متعدد ممالک متاثر ہوئے ہیں

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس جس رفتار اور شدت سے پھیلا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔

ادارے کے ڈائریکٹر کیجی فوکودا نے ان ’شیڈو رونز‘ پر بھی تشویش ظاہر کی ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ نہ وہاں پہنچا گیا ہے اور نہ وہاں مریضوں کی تصدیق ہو پا رہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ 19 اگست کے بعد سے ایبولا کے 142 نئے مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ اس دوران 77 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔

اب تک ایبولا سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 1427 ہو چکی ہے جبکہ مریضوں کی کل تعداد 2615 ہے۔

ادارہ پہلے ہی ایبولا کو صحت کی بین الاقوامی ایمرجنسی قرار دے چکا ہے

لائبیریا کے دارالحکومت مونروویا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فوکودا نے کہا کہ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے کئی مہینوں کی سخت محنت درکار ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اب تک اتنے بڑے علاقے میں اتنی تیزی سے پھیلتی ایبولا کی بیماری نہیں دیکھی۔‘

جمعے کو نائجیریا میں بھی ایبولا کے دو نئے مریض سامنے آئے ہیں اور ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید طبی ذرائع درکار ہیں۔

ایبولا کا وائرس فروری میں گنی سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب تک وہ لائبیریا، سیرالیون اور نائجیریا تک پھیل چکا ہے۔

تاحال ایبولا کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے لیکن کچھ افراد زیڈ میپ نامی تجرباتی دوا کے استعمال سے شفایاب ہوئے ہیں لیکن اب یہ دوا بھی دستیاب نہیں ہے۔

اسی بارے میں