تصاویر سکیورٹی توڑ کر حاصل نہیں کی گئیں: ایپل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اداکارہ جینفر لارنس نے اس کی تصدیق کی تھی کہ انٹرنیٹ پر شائع ان کی نیم عریاں تصویر حقیقی تھی

ایپل نے متعدد مشہور شخصیات کے آئی کلاؤڈ اکاونٹس تک ہیکرز کی رسائی کی تصدیق کی ہے لیکن کہا ہے کہ اسے ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ ایسا ان کے سکیورٹی نظام کو توڑ کر کیا گیا ہو۔

کمپنی نے کہا کہ ہیکروں نے ان اکاونٹس تک رسائی متعلقہ صارفین کے لاگ ان معلومات حاصل کرکے کیا۔

ایپل کی طرف سے یہ بیان 20 مشہور شخصیات کی برہنہ تصاویر انٹر نیٹ پر شائع ہونے کے بعد آیا ہے۔

اداکارہ جینفر لارنس نے اس کی تصدیق کی تھی کہ انٹرنیٹ پر شائع ان کی نیم عریاں تصویر حقیقی تھی۔

یہ خیال کیا جاتا رہا کہ ان مشہور شخصیات کی تصاویر اس سافٹ ویئر میں خامیوں کی وجہ حاصل کی گئی جس کے ذریعے صارفین اپنے گم شدہ آئی فون معلوم کرتے ہیں۔ اس سافٹ ویئر کے ذریعے صارف پاس ورڈ اندازے سے معلوم کرنے کے لیے بے شمار دفعہ کوشش کر سکتے ہیں۔

لیکن ایپل کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے بیان کے مطابق:’جب ہمیں ان تصاویر کے چوری ہونے کا معلوم ہوا تہ ہم نے اپنے انجینیئرز کو اسے معلوم کرنے کے کام پر لگا دیا۔ ہمارے صارفین کی نجی زندگی اورسکیورٹی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔‘

ایپل نے کہا کہ ’40 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ مخصوص مشہور شخصیات کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی گئی۔ اور ایسا ان شخصیات کے نام، پاس ورڈ اور سکیورٹی کے سوالات پر حملہ کرکے اسے حاصل کرنے کے بعد کیا گیا۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’ان میں ایسا کوئی بھی کیس نہیں جس میں ایپل کے سکیورٹی نظام کو توڑا گیا ہو۔‘

اس سے پہلے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے کہا تھا کہ وہ بھی تصاویر چوری ہونے کے معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ ہیکروں نے آسکر انعام یافتہ اداکارہ جینیفر لارنس سمیت کئی مشہور شخصیات کی برہنہ تصاویر انٹرنیٹ پر نشر کر تھیں۔

انٹر نیٹ پر تقریباً 20 مشہور شخصیات کی تصاویر شائع کی گئیں تھیں جن میں زیادہ تر خواتین کی تھیں جس میں جینیفر لارنس کے علاوہ ریانا، کیٹ اپٹن، سلینا گومیس، اور کم کاردیشین کی تصاویر شامل ہیں۔

اسی بارے میں