ہر 40 سیکنڈ میں ایک انسان خودکشی کرتا ہے: ڈبلیو ایچ او

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption دماغی صحت کے مسائل سے جڑے معاشرتی داغ کی وجہ سے لوگ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے جس کی وجہ وہ خودکشی کی طرف مائل ہوتے ہیں

عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک انسان خودکشی کرکے اپنی جان لے لیتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خودکشی ’صحتِ عامہ کا ایک ایسا اہم مسئلہ ہے‘ جس پر اکثر معاشرے میں لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او خودکشی کے واقعات میں سنہ 2020 تک 10 فیصد کمی لانا چاہتا ہے لیکن اس نے خبردار کیا کہ صرف 28 میں خودکشی کی روک تھام کے لیے حکمتِ عملی موجود ہے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سکولوں کی سطح پر مزید تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔

ڈبلیوں ایچ او نے دنیا بھر سے خودکشی پر ہونے والی 10 سال کی تحقیق اور ڈیٹا اکٹھا کرکے اس کا تجزیہ کیا ہے۔

اس تجزیہ کا ماخز مندرجہ ذیل ہے:

  • سالانہ آٹھ لاکھ افراد خودکشی کرکے اپنی جان لیتے ہیں۔
  • یہ 15 سے 29 سال کے جوانوں میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔
  • 70 سے زائد عمر کے افراد کا اپنی جان لینے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
  • خودکشی کرنے والوں میں سے ایک تہائی کا تعلق کم آمدن والے طبقعے سے تھا۔
  • امیر ممالک میں خودکشی سے مردوں کی اموات خواتین کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آتشی اسلحے اور زیریلے کیمیائی مواد تک رسائی کو کم کرنے سے خودکشی کے واقعات میں کمی ہو گئی اور خودکشی کی روک تھام کے لیے قومی سطح پر حکمتِ عملی ترتیت سے فرق پڑا لیکن ایسی حکمتِ عملی کو کم ممالک میں اختیار کیا گیا۔

عالمی ادارۂ صحت کی سربراہ ڈاکٹر مارگریٹ چان نے کہا کہ ’یہ رپورٹ صحتِ عامہ کے ایک بہت بڑے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی بات کرتا ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر معاشرے میں لوگ اکثر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔‘

دماغی صحت کے مسائل سے جڑے معاشرتی داغ کی وجہ سے لوگ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے جس کی وجہ وہ خودکشی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے ہالی وڈ کے اداکار روبن ویلیمز کی موت کی تفصیلات کو روپورٹ کرنے کی طرح خودکشی کے واقعات کو میڈیا میں رپورٹ کرنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

روپورٹ میں ممالک سے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کی مدد کے لیے اقدامات کریں جنھوں نے ماضی میں خودکشی کی کوشش کی کیونکہ ان کا خودکشی کرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

برطانیہ میں خودکشی کے خلاف مہم چلانے والے جانی بینجامن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں خودکشی کے بارے میں زیادہ آگاہی ہونی چاہیے اور لوگوں کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ وہ خودکشی کا سوچنے والے لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش ائیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’خودکشی کے بارے مزید آگاہی اور سکولوں کی سطح پر تعلیم ہونی چاہیے کیونکہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ جوان لوگوں کا اپنی جان لینے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں