ماحولیاتی تبدیلی پر دنیا بھر میں مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دنیا کے دو ہزار سے زائد مقامات پر ہونے والے مظاہروں میں ماحولیات کے بارے میں فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا

ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں فوری اقدامات پر زور دینے کے لیے دنیا بھر کے 161 ملکوں میں دو ہزار سے زیادہ مقامات پر جلوس نکالے گئے ہیں۔

’عوامی ماحولیاتی مارچ‘ نامی مہم کے تحت ہونے والے ان مظاہروں میں لاکھوں افراد شریک ہوئے جنھوں نے کاربن کے اخراج پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

یہ مہم ایسے موقع پر چلائی جا رہی ہے جب اگلے ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کا ماحولیاتی سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔

مظاہروں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ نیویارک میں اتوار کو تین لاکھ دس ہزار افراد نے جلوس میں حصہ لیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اس میں شرکت کی۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا اور یورپ میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔

نیویارک میں مظاہرے کے دوران بان کی مون نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہماری آنے والی نسلیں اسی سیارے پر رہیں گی۔ ہمارے پاس کوئی متبادل منصوبہ نہیں ہے کیوں کہ ہمارے پاس کوئی متبادل سیارہ نہیں ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری کے ساتھ سائنس دان جین گوڈال اور فرانس نے ماحولیات کے وزیر سیگولین روئل بھی مظاہرے میں موجود تھے۔

نیویارک کے مارچ کے منتظمین نے بتایا کہ مارچ میں 550 بسوں میں آئے ہوئے مظاہرین نے شرکت کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ گذشتہ پانچ برسوں میں ماحولیات کے بارے میں ہونے والا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے۔

ہالی وڈ کے اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔ انھیں گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کا ماحولیات کے بارے میں نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔

آسٹریلیا میں 20 ہزار لوگوں نے میلبرن میں وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ سے ملاقات کر کے ان سے ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں زیادہ اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیویارک میں لیونارڈو ڈی کیپریو نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔ انھیں اقوامِ متحدہ کا نمائندہ برائے ماحولیات مقرر کیا گیا ہے

سڈنی میں بی بی سی کے نامہ نگار فل مرسر کہتے ہیں کہ مظاہرین کو اندیشہ ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر قابو نہ پایا گیا تو ملک شدید قحط سالی، جنگل کی آگ، اور طوفانوں کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

منگل کے دن اقوامِ متحدہ نیویارک میں ماحولیاتی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گی جس میں 125 ملکوں کے سربراہ شرکت کریں گے۔

جنرل سیکریٹری بان کی مون کو امید ہے کہ اس اجلاس کے دوران ایک عالمی معاہدے پر پیش رفت ہو سکے گی جس پر 2015 کے اختتام تک تمام ملک دستخط کریں گے۔

نیویارک میں نکالے جانے والا جلوس بین الاقوامی احتجاج کا حصہ ہے جس کے تحت 161 ملکوں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں