بھارتی خلائی جہاز ’منگل یان‘ نے کام شروع کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ ISRO
Image caption بھارت نے اس مشن پر تقریباً 450 کروڑ روپے خرچ کیے جو دوسرے ممالک کے مقابلے بہت کم ہے

بھارت کے مقامی میڈیا کے مطابق ملک کے خلائی جہاز ’منگل یان‘ نے بدھ کو کامیابی کے ساتھ مریخ کے مدار میں پہنچنے کے بعد سیارے کی تصاویر بنانے کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے۔

بھارت کے خلائی تحقیق کے ادارے اسرو کے حکام کا کہنا ہے کہ منگل یان نے کچھ تصاویر بھیج دی ہیں جن کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

کسی سیارے پر بھیجا جانے والا سستا ترین مشن ’منگل یان‘ اس سرخ سیارے کی آب و ہوا کا بھی مطالعہ کرے گا۔

غربت کے باوجود سائنسی تجربے ضروری: پروفیسر ہود بھائی

بھارت کے مقامی میڈیا نے اس مشن کو ’تاریخی کامیابی‘ قرار دیا ہے۔

مقامی اخبار دا ہندو کے مطابق مشن نے سرخ سیارے کی سطح کی دس تصاویر بھیجی ہیں جس میں کچھ گڑھے دکھائی دیتے ہیں۔

اخبار نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ تصاویر ’اچھے معیار‘ کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عوامی سطح پر جاری کرنے سے پہلے ان تصاویر کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کو دکھایا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق خلائی گاڑی پر لے جائے جانے والے آلات میں کیمرا پہلا آلہ تھا جسے گاڑی کا مدار میں داخل ہونے کے چند گھنٹے بعد آن کر دیا گیا۔

1350 کلو وزنی اس روبوٹک سیٹلائٹ مشن پر پانچ آلات نصب ہیں۔ اس گاڑی نے دس مہینے کی لمبی مسافت کے دوران 20 کروڑ کلومیٹر کا راستہ طے کیا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نےبدھ کو منگل یان کے مریخ کے مدار میں داخل ہونے کے موقعے پر بھارت کی کامیابی پر سائنس دانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج بھارت دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے پہلی ہی بار میں یہ کامیابی حاصل کی ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نے کہا تھا: ’آج تاریخ رقم کی گئی ہے۔ ہم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ میں سبھی بھارتیوں اور اسرو کے سائنس دانوں کو مبارک باد دیتا ہوں۔ کم وسائل کے باوجود یہ کامیابی سائنس دانوں کی ہمت اور مردانگی کی وجہ سے ملی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISRO
Image caption بدھ کو صبح سات بجے کے بعد اس مشن کا انتہائی حساس عمل شروع ہوا تھا

بھارت نے اس مشن پر تقریباً 450 کروڑ روپے خرچ کیے جو کہ دوسرے ممالک کے مقابلے بہت کم ہے۔

منگل یان مریخ پر میتھین گیس کا پتہ لگائے گا اور اس کے ساتھ ہی پر اسرار کائنات کے متعلق اس سوال کے جواب کا بھی سراغ لگائے گا کہ کیا ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟

یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس مہم سے مریخ کا پانی ختم ہونے جیسے اہم سوالات کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔

اسی بارے میں