گوگل پر پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کے لیے دباؤ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صارفین کو گوگل کی تبدیلیوں کو اپنانے یا نہ اپنانے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا تھا

یورپ میں انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے تحفظ سے متعلق ضابطہ کاروں نے گوگل پر ایک بار پھر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ اپنی پرائیویسی کی پالیسی کو تبدیل کرے۔

دو سال قبل گوگل نے پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیاں کی تھیں جن کے بارے میں ضابطہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ یورپی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

کئی دوسری باتوں کے علاوہ ضابطہ کاروں کا کہنا تھا گوگل پر لازم ہے کہ وہ اپنے صارفین کو بتائیں کہ ان کی کون کون سے معلومات حاصل کی گئی ہیں اور اسے کس کس کے ساتھ بانٹا گیا ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ وہ ضابطہ کاروں کو اس بات کی وضاحت دے رہا ہے کہ اس کی پرائیویسی کی تبدیلیاں کیا ہیں۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جو سنہ 2012 میں گوگل نے اپنی 60 پرائیوسی پالیسیز کو اکھٹا کر دیا تھا اور یوٹیوب ، جی میل اور گوگل میپس کی معلومات کو یکجا کرنا شروع کر دیا تھا۔

اس کے لیے صارفین کو تبدیلیوں کو اپنانے یا نہ اپنانے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا تھا۔

گو کہ اس عمل کے لیے گوگل پر براہِ راست قانون کی خلاف ورزی کا الزام نہیں لگایا گیا تاہم اس پر الزام ہے کہ اس نے صارفین کی نامکمل اور غیر حتمی معلومات فراہم کیں جس کی وجہ سے معلومات کے تحفظ اور یورپی قوانین کی خلاف ورزی سےمتعلق خدشات پیدا ہوئے۔

گوگل نے رواں بر س مارچ میں اپنی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیاں کی تھیں۔

برطانیہ میں معلومات کے کمشنر کے دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’گوگل نے کچھ تبدیلیاں ضرور کی ہیں لیکن ہماری تحقیقات اس وقت تک نہیں رکیں گی جب تک کہ ہمیں اس کے مکمل محفوظ ہونے کا یقین نہ ہو جائے۔‘

گوگل کے سربراہ لاری پیج کے نام ایک خط میں یورپ میں انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے تحفظ سے متعلق ضابطہ کاروں نے لکھا ہے کہ ’گوگل کو معلومات کے تحفظ کے یورپی اور قومی قوانین کا احترام کرتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرنے چاہیئیں۔‘

گوگل کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ نئے ضوابط کے بارے میں بات کریں گے۔

انھوں نے کہا’ ہم نے معلومات کے تحفظ سے متعلق کئی ضابطہ کار اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور انھیں اپنی پرائیویسی پالیسیز کی وضاحت دی ہے۔‘

اسی بارے میں