عورت اور مرد کے دماغ میں کیا فرق ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption تحقیق کے مطابق مردوں کی بر وقت ردعمل کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، جیسے کہ مرد اچھے شکاری ہوتے ہیں۔

کیا مردوں اور خواتین کے دماغ میں کوئی فرق ہے یا دماغ جنس سے بالاتر ہو کر ایک ہی طرح کام کرتا ہے؟

بی بی سی ہورائزن نے اس سوال کا جواب جاننے کے کوشش کی ہے۔

اس سوال پر کہ مرد اور خواتین کا دماغ کس حد تک ان کے برتاؤ پر اثر انداز ہوتا ہے، میں اور پروفیسر ایلس رابرٹس مختلف آرا رکھتے ہیں۔

میرے خیال میں انسانی جسم کی طرح انسانی ذہن کے برتاؤ کا زیادہ دار و مدار بھی ہارمونز پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ کاموں میں مرد بہتر ہوتے ہیں تو کچھ میں خواتین۔

لیکن ایلس کا خیال ہے کہ یہ صرف مفروضے ہی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ایسی باتیں خواتین کو کئی شعبوں میں جانے سے روکتی ہیں، مثال کے طور پر سائنس کے میدان میں۔

ایلس کا کہنا ہے کہ ہم ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں دس میں تین سے بھی کم لڑکیاں اے لیول میں فزکس بطور مضمون پڑھتی ہیں اور انجینیئروں میں صرف سات فیصد خواتین ہیں۔

بی بی سی ہورائزن نے ہمیں سائنس کے میدان میں ایسی تحقیق کرنے کو کہا جو نہ صرف ہماری دو مختلف آرا کو صحیح ثابت کر سکے بلکہ دونوں آرا میں کچھ مشترکہ خصوصیات بھی سامنے لے کے آئے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سائمن بیرن کوہن ان سائنس دانوں میں شامل ہیں جن کی تحقیق نے میری رائے کو مضبوط کیا۔

ان کا خیال ہے کہ انسانی ذہن کی دو قسمیں ہیں، پہلی قسم کا ذہن رکھنے والے لوگ یہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ انسان کیا سوچ رہا ہے اور کیا محسوس کر رہا ہے جب کہ دوسری قسم کا ذہن رکھنے والے لوگ سسٹمز کو جاننے اور اس کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پروفیسر سائمن کے خیالات پر حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق کا خاصا اثر ہے۔ اس تحقیق میں پیدائش سے قبل رحم میں موجود ٹیسٹاسٹیرون مائع کی مقدار کا بچوں کے برتاؤ اور ذہن پر اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

سائمن کا کہنا تھا کہ وہ بچے جن کو پیدائش سے قبل ٹیسٹاسٹیرون ہارمون کی زیادہ مقدار کا سامنا کرنا پڑا، پیدائش کے بعد سماجی تعلقات کے معاملے میں کمزور ثابت ہوئے، مثال کے طور پر اپنی پہلی سالگرہ تک وہ دوسروں سے کم سے کم نظریں ملاتے تھے اور ان کا بعد میں ان کا سکول میں بھی دل کم لگتا تھا۔

مردوں اور عورتوں کے دماغوں میں فرق یونیورسٹی آف پنسلوینیا کی ایک تحقیق سے بھی واضح ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں آٹھ اور 22 سال کے درمیان 949 مرد و خواتین کے دماغ سکین کیے گئے جس سے کچھ حیرت انگیز فرق سامنے آئے۔

تحقیق میں شامل پروفیسر روبن گر کے مطابق مردوں کے دماغ کے اگلے اور پچھلے حصوں میں مضبوط تعلق پایا گیا۔ ان کے خیال میں اس کے باعث مردوں میں جلد اور بر وقت ردعمل کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، جیسے کہ مرد اچھے شکاری ہوتے ہیں۔

تحقیق میں شامل ایک اور تحقیق دان ڈاکٹر رگینی ورمن کے مطابق عورتوں کے دماغ کے دائیں اور بائیں حصوں میں زیادہ رابطہ پایا گیا اور جس دماغ میں ایسا ہو تو اس کے مالک ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنے اور ان کاموں کے کرنے میں جن میں جذبات استعمال کرنے ہوتے ہوں، بہت اچھے ہوتے ہیں۔

لیکن ایلس نے یہ کہنے میں دیر نہیں لگائی کہ اس تحقیق کے ناقدین بھی بہت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی دماغوں کے درمیان فرق سماجی دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔

بی بی سی ہورائزن کے اس خصوصی پروگرام میں انسانی دماغ پر بہت سی تحقیقات پیش کی جائیں گی۔ دیکھیے گا پیر 29 ستمبر کی رات بی بی سی ٹو پر۔