’ہر شارک کی انفرادی شخصیت ہوتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ david sims
Image caption محققین نے کیٹ شارکس کے دس گروہوں پر تحقیق کی

برطانوی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق، سمندر میں سب سے زیادہ خوفناک شکاری شارک کی انفرادی شخصیت ہوتی ہے جو ان کے گھل ملنے کی عادات پر اثر انداز ہوتی ہے۔

انفرادی شارکس کی دس کے گروہوں میں تحقیق کرنے کے بعد معلوم ہوا یہ مسلسل سماجی عادات ظاہر کرتی ہیں اور اپنے گروہ تشکیل کرتی ہیں یا چھپنے کے لیے خود سے اپنے آپ کو ماحلو کے مطابق کر لیتی ہے۔

جب شارکس کے گروپ کو ایک نئے ماحول میں منتقل کیا گیا انفرادی شارکس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ پہلی ایسی تحقیق ہے جس میں پتا چلا ہے کہ شارکس کی اپنی شخصیات ہوتی ہیں۔

شارکس پر ہونے والی تحقیق ایکزیٹر یونیورسٹی کے ساتھ تعاون میں پلایماؤت میں برطانیہ کے سمندری حیاتیاتی ایسوسی ایشن کے بڑے ٹینکوں میں ہوئی۔

شارکس پر تحقیق میں دس مختلف گروہ دیکھے گئے۔ ہر ایک گروہ میں دس چھوٹی چتکبری کیٹ شارکس کو تین مختلف قسم کے حالات میں رکھا گیا۔ کچھ شارکس کو پیچیدہ قسم کے ماحول میں ڈالا گیا جن میں پتھر اور دیگر خصوصیات موجود تھے۔ اور کچھ شارکس کو سادہ ٹینکوں میں ڈالا گیا جن کے نچلے حصوں میں صرف بجری موجود تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption محققین کی توقع ہے کہ ان کی تحقیق کے نتائج جنگلی شارکس پر بھی لاگو ہونگی

مختلف ماحوں میں منتقل کیے جانے اور اپنے گروہوں کی مجموعی تعداد اور سائز کے بدلنے کے باوجود، انفرادی شارکس آپس میں بڑے گروہ ہر بار تشکیل کرتی تھیں جبکہ زیادہ تنہا پسند زیادہ تر اکیلے نظر آئے۔

سسیکس یونیورسٹی میں جانوروں کے رویے کے ماہر پروفیسر ولیم ہیوز نے کہا کہ وہ ان نتائج کی تفصیل سے متاثر ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ نتائج حیرت کی بات نہیں ہیں کیونکہ گذشتہ ایک دہائی میں جانوروں کے رویے کی تحقیقات میں کافی بہتری آئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جانوروں کی قسموں میں انفرادی روییوں کے کافی ثبوت سامنے آئے ہیں۔

جرمنی کی ہمبولٹ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم جین سبیسٹین فنگر جانوروں کی دیگر قسموں میں شخصیات کے وجود ہونے کی تحقیق کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کے شارکس کی اس تحقیق کے نتائج غیر متوقع نہیں تھے۔

انھوں نے کہا: ’ شخصیات ہر کہیں نظر آتی ہیں اور تقریباً ہر قسم کے جانور میں پائی جاتی ہیں۔‘

اسی بارے میں