دماغ کے ’جی پی ایس‘ کی تحقیق پر نوبیل

نوبیل اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تینوں سائنسدانوں نے 1970 کی دہائی میں جی پی ایس کے نظام پر تحقیق کی تھی

فزیالوجی یا جانوروں کے اعضا کے مطالعے کے شعبے میں نوبیل انعام ان تین سائنسدانوں کو دیا گیا ہے جنہوں نے دماغ کا ’جی پی ایس نظام‘ دریافت کیا تھا۔

برطانیہ میں مقیم محقق پروفیسر جان او کیفے، مے برٹ موزر اور ایڈورڈ موزر نے یہ ایوارڈ مشترکہ طور پر حاصل کیا۔

انہوں نے یہ دریافت کیا تھا کہ کس طرح دماغ کو پتہ چلتا ہے کہ ہم کہاں ہیں اور وہ ایک جگہ سے دوسرے جگہ جانے کو کس طرح سمجھ پاتا ہے۔

ان کی دریافت سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ الزائمر کی بیماری کے مریضوں کے لیے اپنے ارد گرد کے ماحول کو جاننا کس طرح مشکل ہو جاتا ہے۔

نوبل اسمبلی نے کہا کہ ’ان دریافتوں نے اس مسئلے کو حل کر دیا ہے جس کا صدیوں سے فلسفیوں اور سائنسدانوں کو سامنا تھا۔‘

یونیورسٹی کالج لندن سے تعلق رکھنے والے پروفیسر او کیفے نے سنہ 1971 میں دماغ کے اندرونی پوزیشننگ سسٹم کے پہلے حصہ کو دریافت کیا تھا۔

انہوں نے ایک تجربے سے دکھایا تھا کہ کس طرح جب چوہا کمرے کے ایک حصے میں ہوتا ہے تو اس کے دماغ کے عصبی خلیات کا ایک سیٹ متحرک رہتا ہے اور جب وہ کمرے کے دوسرے حصے میں ہوتا ہے تو خلیات کا ایک مختلف سیٹ سرگرم ہوتا ہے۔

پروفیسر او کیفے نے کہا کہ دماغ کے ’ہپوکیمپس‘ میں واقع یہ خلیات دماغ کے اندر ایک نقشہ بنا دیتے ہیں۔

سنہ2005 میں مے برٹ اور ان کے شوہر ایڈورڈ برٹ نے دماغ کے ایک ایسے حصے کو دریافت کیا جو ایک سمندری چارٹ کی طرح کام کرتا ہے۔

یہ ’گرڈ کے خلیات‘ طول بلد اور عرض بلد کی لکیروں کی مانند ہوتے ہیں جو دماغ کو فاصلے کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ میاں بیوی ناروے کے شہر ٹرونڈہیم میں واقع یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کام کرتے ہیں۔

نوبیل کمیٹی نے کہا کہ گرڈ اور جگہ کے خلیات کا مجموعہ ’دماغ میں ایک جامع پوزشننگ سسٹم یا جی پی ایس کو تشکیل دیتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام ’ڈیمینشیا ( نسیان) اور الزائمر کی بیماری سمیت کئی دیگر دماغی امراض کے دوران متاثر ہوجاتا ہے۔‘

یونیورسٹی آف ڈرہم کے ڈاکٹر کولن لیور نے پروفیسر او کیفے کی لیبارٹری میں کام کیا ہے اور دو موقعوں پر تو انہیں پہلے بھی لگا تھا کہ ان کے سابق سرپرست یہ ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا: ’وہ بالکل نوبیل انعام کے مستحق ہیں، وہ ادراکی انقلاب لائے ہیں، ان کی تحقیق واقعی مستقبل کی سوچ ہے جس میں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جانور اپنے دماغ میں بیرونی دنیا کا عکس بناتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’دنیا 1971 میں ’جگہ کے خلیات‘ کے متعلق ان کی اصل رپورٹ کے لیے تیار نہیں تھی، لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ ان خلیات کی خصوصیت ’جگہ‘ تھی، یہی وجہ تھی کہ ان کی تحقیق کو اس وقت اتنی پذیرائی نہیں ملی تھی۔‘

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جان سٹین نے بھی نوبیل انعام کو سراہتے ہوئے کہا کہ : ’یہ بہت اچھی خبر ہے اور وہ اس کے مستحق ہیں۔‘

انہوں نے کہ 1970 کی دہائی میں جب جان نے ’جگہ کے خلیات‘ دریافت کیے تھے تو سب اس پر ہنستے تھے۔‘

"اب، ان کئی خیالات کی طرح جو پہلے انتہائی متنازع ہوتے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ دیکھا یہ کتنا واضح ہے۔‘

اسی بارے میں