معذوری کے علاج میں تاریخی کامیابی

Image caption ڈیرک فیدیکا اب ایک فریم کی مدد سے نہ صرف چل سکتے ہیں بلکہ گاڑی بھی چلا سکتے ہیں

لندن کا ایک رہائشی 2010 میں چاقو کے حملے میں زخمی ہو کر مکمل طور پر اپاہج ہوگیا تھا، لیکن ایک نئے علاج کی بدولت اس نے ایک بار پھر چلنا شروع کر دیا ہے۔

ماہرین کے خیال میں ڈیرک فیدیکا کا کامیاب علاج دنیا میں اپاہج لوگوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔

ڈیرک فیدیکا کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں پہلا شخص ہے جو ریڑھ کی ہڈی میں زخم کی وجہ سے مکمل طور پر اپاہج ہونے کے بعد دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل ہوا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسروں کی تحقیق کے تحت پولینڈ میں ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن کےماہر ڈاکٹروں نے ڈیرک فیدیکا کے ناک کے حصے سے حاصل کردہ سٹیم سیل کو ریڑھ کی ہڈی میں بکھرے ہو ئے اعصابی ریشوں سے نتھی کیا جہاں سے انھیں ٹوٹے ہوئے ریشوں تک رسائی ملی اور یہ ریشے اس سٹیم سیل کی مدد سےایک بار پھر پروان چڑھ گئے۔

بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ ڈیرک فیدیکا اب ایک فریم کی مدد سے چل پھر سکتے ہیں، حتیٰ کہ کار بھی چلا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’یہ ناقابلِ بیان تجربہ ہے، پہلے میں اپنا آدھا بدن محسوس ہی نہیں کر سکتا تھا، اور بےیار و مددگار تھا، لیکن اب جب یہ سب کچھ دوبارہ آ رہا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے میں نے دوبارہ جنم لیا ہے۔‘

یہ علاج یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر جیفری ریزمین اور ان کی ٹیم نے یہ علاج دریافت کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی ’انسان کے چاند پر قدم رکھنے سے زیادہ متاثرکن ہے۔‘

پولینڈ کے ایک عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر پاؤل تاباکوو کی ٹیم نے یہ آپریشن سرانجام دیا۔

اس کامیاب علاج سے پہلے ریڑھ کی ہڈی کے جزوی زخم کو ٹھیک کرنے میں ڈاکٹروں کو معمولی کامیابیاں حاصل ہوتی رہی ہیں لیکن ریڑھ کی ہڈی میں ایسا زخم جس سے ہڈی مکمل پر علیحدہ ہو جائے، اسے ناقابل علاج تصور کیا جاتا تھا۔

اسی بارے میں