کیا جی میل ختم ہو جائے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption ’ان باکس‘ اہم ای میل پیغامات، مثال کے طور پر فلائٹ ٹکٹس، تصاویر اور اہم تقریبات کی معلومات کو نمایاں حروف میں پیش کرے گا

گوگل ’ان باکس‘ کے نام سے ای میلز کے لیے اپنی ایپ ازسرنو لانچ کرے گی۔ اس نئی ایپ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بہت سارے ای میلز کے ہجوم میں انتہائی اہم ای میلز نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائیں۔

فی الحال تو گوگل نے کچھ صارفین کو تجرباتی بنیادوں پر اس نئی سروس کی پیش کش کی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ان باکس‘ ایپ آگے چل کر جی میل کی جگہ لے سکتی ہے۔

گوگل پلس پر تبصرہ کرتے ہوئے گوگل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے لکھا کہ ’جی میل کے بعد یہ ایپ ہماری لیے ایک بڑی تبدیلی ہو گی اور ہم اس پر انتہائی خوش ہیں۔‘

ان باکس اہم ای میل پیغامات، مثال کے طور پر فلائٹ ٹکٹس، تصاویر اور اہم تقریبات کی معلومات کو نمایاں حروف پیش کرے گا۔

ان باکس میں صارفین اپنے اہم کام نمٹانے کے لیے یاد دہانی نوٹس کا اضافہ بھی کر سکیں گے۔

اینڈروئڈ، کروم اور ایپس کی وائس پریزیڈنٹ سندر پچائی کا کہنا ہے کہ آج کل ای میلز کی بھر مار ہے، اتنی غیر ضروری ای میلز آتی ہیں کہ اکثر اہم اور ضروری ای میلز نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں، خصوصًا جب ہم فون پر ای میل چیک کر رہے ہوتے ہیں۔

ٹیکنالوجی میڈیا میں اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

’دی ورج‘ نے ’ان باکس‘ ایپ کو ای میل کا مستقبل قرار دیا ہے۔ لیکن ’مشابل‘ کا کہنا ہے کہ میل باکس اور باکس ایپس یہی کام کرتی ہیں۔

انگیجٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ’ان باکس‘ ایپ واقعی جی میل کی بادشاہت کا خاتمہ کر سکی گی؟

اسی بارے میں