سورج کی روشنی وزن کم کرنے میں مددگار

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا سورج کی روشنی کا انسانوں پر ایسا ہی اثر ہوتا ہے

سائنسدانوں نے چوہوں پر تحقیق سے نتیجہ اخذ کیا ہےکہ سورج کی روشنی وزن بڑھنے اور ذیابیطس کا مرض لاحق ہونے کا عمل سست کر دیتی ہے۔

جریدے ’ڈایابیٹیز‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں شامل ایڈنبرا، ساؤتھیمپٹن اور آسٹریلیا کے سائنس دانوں کے مطابق چوہوں کو سورج کی روشن شعاعوں میں رکھنے سے انھوں نے کم خوراک کھانا شروع کر دی۔

تاہم سورج کی روشنی کی وجہ سے جسم میں پیدا ہونے والے وٹامن ڈی کا اس میں کوئی کردار سامنے نہیں آ سکا ہے۔

اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا سورج کی روشنی کا انسانوں پر ایسا ہی اثر ہوتا ہے۔

محققین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ان نتائج کی تشریح احتیاط سے کرنا چاہیے کیونکہ چوہے رات کو جاگتے اور دن میں سوتے ہیں اور ان کے جسم پر بال دار کھال ہوتی ہے اور عام طور پر سورج سے ان کا سامنا کم ہی ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چوہوں کو سورج کی روشنی میں رکھنے سے ان میں ٹائپ ٹو قسم کی ذیابیطس ظاہر ہونے کے امکانات کم ہو گئے جس میں شکر کی غیرمعمولی مقدار اور انسولین کے خلاف مداخلت شامل ہے۔

اس تحقیق کی سربراہ اور پرتھ کے ٹیلےتھون کڈز انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر شیلی گورمن کے مطابق تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے سورج کی روشنی ایک اہم عنصر ہے۔

انھوں نے کہا کہ سورج کی روشنی میں رہنے، بہت ساری ورزش، صحت مند خوراک سے بچوں میں موٹاپے کے عمل کو شروع ہونے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی کمیٹی برائے غذائیت کے چیئرمین ڈاکٹر کولن مچیئی کے مطابق یہ پہلے سے معلوم ہے کہ سورج کی شعاعوں کا جسم میں سوجن، دماغ میں قدرتی دافع درد والے مرکبات، جلدی سرطان اور سٹیروئڈ بائیو کمیسٹری جیسے عوامل پر قابل ذکر اثر ہوتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ بات حیرت انگیز نہیں ہے کہ اس قسم کی روشنی موٹاپے اور میٹابولک سنڈروم پر مثبت اثرات ڈالتی ہے۔

اسی بارے میں