پائریٹ بے کے بانی کو جیل کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ گذشتہ پانچ برسوں میں وارگ کے خلاف تیسرا عدالتی فیصلہ ہے

فائل شیئرنگ ویب سائٹ پائریٹ بے کے شریک بانی گوٹفرڈ وارگ کو ڈنمارک میں کمپیوٹر ہیک کرنے اور غیرقانونی طور پر ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔

ڈنمارک کی عدالت نے وارگ اور ان کے ایک ساتھی کو ٹیکنالوجی کمپنی سی ایس سی کے کمپیوٹر ہیک کرنے کا قصووار پایا۔

ان دونوں نے کمپیوٹروں تک رسائی حاصل کرنے کے بعد وہاں سے پولیس اور سوشل سکیورٹی فائلیں ڈاؤن لوڈ کی تھیں۔

وارگ کو چھ برس قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ان کے ساتھی کو رہا کر دیا گیا کیوں کہ اس نے پہلے ہی 17 ماہ قید کاٹ لی تھی۔

ہیکنگ کا یہ واقعہ فروری 2012 میں پیش آیا تھا، جس کے دوران ان دونوں نے چھ ماہ تک حساس معلومات تک رسائی حاصل کیے رکھی۔

وکلائے صفائی نے کہا کہ یہ حملہ وارگ کے کمپیوٹر سے کیا گیا تھا لیکن انھوں نے فائلیں نہیں چرائیں، بلکہ ایک نامعلوم ہیکر نے ان کا کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے یہ واردات کی۔

وارگ نے اس ہیکر کا نام بتانے سے گریز کیا۔

شواہد کا جائزہ لینے کے بعد جج اور جیوری نے کہا کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ کوئی اور شخص اس کیس میں ملوث رہا ہو۔

یہ گذشتہ پانچ برسوں میں وارگ کے خلاف تیسرا عدالتی فیصلہ ہے۔

اس سے قبل انھیں ستمبر 2013 میں کمبوڈیا سے سویڈن ڈی پورٹ کیا گیا تھا جہاں وہ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں سزائے قید کاٹ رہے تھے۔

ایک اور مقدمے میں 2013 میں وارگ کو بینک کے کمپیوٹر ہیک کرنے کے جرم میں دو سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ اپیل کے بعد اس سزا میں ایک سال کی تخفیف کر دی گئی تھی۔

گذشتہ برس وارگ کو سی ایس سی ہیکنگ کیس کے سلسلے میں ڈی پورٹ کر کے ڈنمارک بھیج دیا گیا تھا۔