’پاکستان میں پرائیویسی حقوق اور قوانین آئین سے متصادم‘

Image caption 1973 کے آئین میں فردِ واحد کی پرائیویسی کو ناقابلِ خلاف ورزی حق قرار دیا گیا ہے

پاکستان میں انٹرنیٹ اور شخصی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم بائٹس فار آل نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی ریاست کے شخصی حقوق کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات فردِ واحد کی شخصی آزادی پر آئین میں موجود قوانین سے متصادم ہیں۔

بائٹس فار آل نے اپنی حالیہ رپورٹ ’آئین سے متصادم، پاکستان میں پرائیویسی حقوق اور قوانین‘ میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاست کے آئین اور قوانین میں مطابقت پیدا کرے اور سفارشات پیش کی ہیں کہ وہ ان کی بنیاد پر اصلاحات کا آغاز کریں۔

بائٹس فار آل نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ہے یا سول سوسائٹی سمیت تمام حصے داروں کو فوری طور پر آئین سازی کا عمل شروع کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری ممکن ہو سکے۔

پاکستان میں سائبر قوانین پر کام کرنے والے ماہرِ قانون یاسر لطیف ہمدانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ نے مختلف مواقع پر اس حوالے سے اپنے فیصلوں میں مختلف راہ اختیار کی جیسا کہ 1996 میں بےنظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے خلاف درخواست میں جاسوسی کے نکتے پر عدالت نے اسے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا۔ عدالت نے اسے آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی بھی قرار دیا تھا۔‘

اس رپورٹ میں بائٹس فار آل نے حکومت کوسفارش کی ہے کہ وہ پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ منظور کرے جس کے نتیجے میں پرائیویسی کمیشن کا قیام ممکن بنایا جائے اور پرائیویسی پروٹیکشن انڈیکس بنایا جائے۔

بائٹس فار آل کے فرحان حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ ایک موثر عدالتی ٹریبیونل قائم کریں جو پرائیویسی میں مداخلت اور جاسوسی کے معاملات جیسے مسائل پر توجہ دے۔‘

فرحان حسین نے مزید کہا کہ ’پاکستان کو درپیش گھمبیر مسائل کو دیکھتے ہوئے یہ بات ضروری ہے کہ حکومت عام شہریوں کی جاسوسی کے دائرۂ کار کو واضح کرے اور اسے دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں تک محدود کرے جنھوں نے ریاست اور اس کے شہریوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔‘

اس رپورٹ میں ملک میں سائبر کرائمز کے قوانین کی عدم موجودگی پر بھی توجہ مبذول کروائی ہے اور کہا گیا ہے کہ انھیں انسانی حقوق کی بنیاد پر بنایا جائے۔

پاکستان تقریباً تمام ایسے عالمی معاہدوں پر دستخط کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے جو پرائیویسی کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہیں جن میں اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق کا اعلامیہ اور سیاسی اور شہری حقوق پرعالمی میثاق شامل ہیں۔

اس کے علاوہ 1973 کے آئین میں فردِ واحد کی پرائیویسی کو ناقابلِ خلاف ورزی حق قرار دیا گیا ہے جس میں شہریوں کی عزتِ نفس، اُن کی پرائیویسی اور زندگی کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔

بی بی سی نے اس سلسلے میں وزارتِ قانون سے رابطہ کیا مگر انھوں نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اسی بارے میں