سمارٹ فون کی لت سے چھٹکارے کی ایپ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آپ جتنا زیادہ وقت اپنے فون کو ہاتھ نہیں لگائیں گے آپ کا انعام بھی اسی تناسب سے بڑھتا جائے گا

سنگاپور میں تین طلبہ ایک ایسی ایپ تیار کرنے کے لیے فنڈنگ کے حقدار قرار پائے ہیں جو لوگوں کو سمارٹ فون کے استعمال سے روکنے کی ترغیب دے گی۔

سنگاپور کے اخبار ’سٹریٹس ٹائمز‘ کی ویب سائٹ کے مطابق ’ایپل ٹری‘ نامی اس ایپ کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سارا سارا دن فون سے چمٹے رہنے کی بجائے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے پاس جا کر ان سے بالمشافہ ملاقات کریں۔

یہ مخصوص ایپ ساتھ رکھے ہوئے دو یا اس سے زیادہ فونز کو ساکت کر دیتی ہے۔ یہ ایپ اس طرح کام کرتی ہے کہ اگر دو یا دو سے زیادہ دوست اپنے فون ایک جگہ رکھ دیں تو ان کے فون ساکت ہو جائیں گے۔ اگر کوئی صارف فون کو نہ چھوئے تو اس کی سکرین پر سیب کا ایک درخت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور اس پر ڈیجیٹل پھل اگ آتے ہیں۔

چینل نیوز ایشیا کا کہنا ہے کہ ان پھلوں کے بدلے انعامات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

آپ جتنا زیادہ وقت اپنے فون کو ہاتھ نہیں لگائیں گے، انعام بھی اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔

سنگاپور کے زیادہ سے زیادہ باسیوں کو قریب لانے کے لیے اس ایپ کو سالانہ ’سپلیش ایوارڈز‘ میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

اس ایپ کا خیال کس کو اور کیسے آیا؟

طالب علم لیبرن لِن کا کہنا ہے کہ ان کے دوست گپ شپ کے لیے اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے فون ساتھ ساتھ رکھے ہوئے تھے، بس یہیں سے انھیں یہ ایپ بنانے کا خیال آیا۔

اور یہ خیال اتنا مقبول ہوا کہ اس گروپ کو مارچ 2015 تک ’ایپل ٹری‘ ایپ بنانے کے لیے 24 ہزار امریکی ڈالر کی فنڈنگ دے دی گئی۔

یہ ایپ سنگا پور کی 50ویں سالگرہ پر ریلیز کی جائے گی۔

اسی بارے میں