’غیر رجسٹر شدہ سیلفی سٹک بیچنے پر بھاری جرمانہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حالیہ برسوں میں سیلفی کا استعمال تیزی سے بڑھتا چلا ہے

جنوبی کوریا میں غیر رجسٹر شدہ ’سیلفی سٹک‘ کہلانے والے آلات فروخت کرنے والوں پر 27 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

ان آلات کی مدد سے صارف اپنے سمارٹ فون کے ذریعے دور سے اپنی تصاویر لے سکتے ہیں۔

جنوبی کوریا کی ریڈیو مینیجمنٹ ایجنسی نے غیر رجسٹر شدہ سیلفی سٹک کی فروخت پر پابندی لگانے کی سفارشات پیش کی ہیں۔

یہ قانون ان آلات پر لاگو ہوتا ہے جو بلو ٹوتھ کی مدد سے فون کو دور سے چلا کر تصویر لے سکتے ہیں۔

ایجنسی نے کہا ہے کہ یہ غیر رجسٹر شدہ آلات دوسرے آلات میں خلل ڈال سکتے ہیں جو اس سے ملتی جلتی ریڈیو فریکوئنسیاں استعمال کر رہے ہیں۔

ایسی سیلفی سٹکس بےحد مقبول ہو رہی ہیں جنھیں سمارٹ فونوں پر نصب کر کے دور سے اپنی تصاویر لی جا سکتی ہیں۔ اس میں سے بعض سٹکس دور سے شٹر دبانے کے لیے شارٹ رینج ریڈیو ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں۔

سینٹرل ریڈیو مینیجمنٹ آفس کے ایک عہدے دار نے اے ایف پی وائر کو بتایا کہ یہ آلات بلوٹوتھ کی مدد سے چلتے ہیں اس لیے یہ ’ٹیلی کمیونیکیشن آلات‘ کے زمرے میں آ جاتے ہیں اور انھیں لازمی طور پر جنوبی کوریا کے نگران ادارے کے ساتھ رجسٹر کروانا لازمی ہے۔

انھوں نے کہا: ’گذشتہ ہفتے کے اعلان کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ انھیں اس کی فروخت کے سلسلے میں احتیاط برتنا ہو گی۔‘

دفتر کی جانب سے قواعد شائع کیے گئے ہیں جن کے تحت غیر اندراج شدہ آلات استعمال کرنے پر جیل یا جرمانے کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

دفتر کے ترجمان نے مزید کہا: ’ہمیں بہت سے دکان داروں نے فون کر کہا کہ وہ نادانستگی میں غیر رجسٹر شدہ مصنوعات بیچ رہے ہیں۔‘

فی الحال ان نئے قواعد کا بہت سختی سے نفاذ نہیں کیا جا رہا، اور ایسی اطلاعات نہیں ملیں کہ جنوبی کوریا میں پولیس نے کسی سیلفی سٹک استعمال کرنے والے کو پکڑا ہو۔

اور تو اور، خود ریڈیو فریکوئنسی کے ادارے کے عہدے دار نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان نئے قواعد کا سیلفی سٹک کی فروخت پر کوئی اثر پڑے گا، چاہے وہ رجسٹرڈ ہوں یا نہیں:

’اس سے کسی چیز پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن اس کے باوجود یہ ایک ٹیلی کمیونیکشن آلہ ہے جس پر قواعد لاگو ہوتے ہیں، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں غیر رجسٹر شدہ آلات کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی۔‘

اسی بارے میں