ٹامی چمپینزی کے انسانی حقوق نہیں ہیں: امریکی عدالت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹامی کی عمر 40 سال ہے اور وہ تفریح کے شعبے میں کام کر چکا ہے

ایک امریکی عدالت نے فیصلہ صادر کیا ہے کہ چمپینزی کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو انسانوں کو ہیں اور اس کے مالک پر لازمی نہیں ہے کہ وہ اسے قید سے رہا کر دے۔

ریاست نیویارک کی ایک اپیل کورٹ نے کہا کہ پنجرے میں بند چمپینزی ٹامی کو ’قانونی طور پر انسان‘ تسلیم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ ’کوئی قانونی فرائض سرانجام نہیں دے سکتا‘۔

نان ہیومن رائٹس پراجیکٹ نامی تنظیم کی دلیل تھی کہ چمپینزی کی خصوصیات انسانوں سے ملتی جلتی ہیں اس لیے وہ بنیادی انسانی حقوق کے حق دار ہیں جن میں آزادی بھی شامل ہے۔

چمپینزی کو قانونی طور پر انسان قرار دیا جائے

تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔

جج نے اپنے فیصلے میں لکھا: ’جہاں تک قانونی نظریے کا تعلق ہے، کسی ایسی ہستی ہی کو انسان قرار دیا جا سکتا ہے جو قانون کی نظر میں حقوق اور فرائض سرانجام دینے کا اہل ہو۔

’یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ انسانوں کے برعکس چمپینزی کسی قسم کے قانونی فرائض سرانجام نہیں دے سکتا، سماجی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتا، اور نہ ہی اسے اس کے اعمال و افعال کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔‘

عدالت نے مزید کہا کہ قانون میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس کے تحت جانوروں کو انسانوں کی طرح برتا گیا ہو اور اس بات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

اکتوبر میں نان ہیومن رائٹس پراجیکٹ نے موقف اپنایا تھا کہ چمپینزیوں کو ’قانونی طور پر شخص‘ قرار دیا جائے، اور اس کے تحت انھیں آزادی ملنی چاہیے۔

تنظیم نے جمعرات کو کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف نیویارک کی اعلیٰ عدالت میں جائے گی۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹامی کے مالک پیٹرک لیوری نے کہا کہ انھیں اس فیصلے سے خوشی ہوئی ہے۔

ٹامی کے بارے کہا جاتا ہے کہ اس کی عمر 40 سال ہے، اور وہ اس سے پہلے تفریح کے شعبے میں کام کرتا تھا۔ وہ دس سال سے لیوری کے پاس ہے۔

اسی بارے میں