اورائن کو خلا میں بھیجنے کی ایک اور کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جمعرات کو تیز ہواؤں اور فنی خرابی کی وجہ سے اورائن لانچ نہیں کیا جا سکا تھا

امریکی خلائی ادارہ ناسا جمعے کے دن اورائن خلائی جہاز کو خلا میں بھیجنے کی کرنے کی ایک اور کوشش کرے گا۔ اورائن مشن کا مقصد انسانوں کو زمین سے باہر سیارچوں، چاند اور مریخ تک لے جانا ہے۔

ناسا چاہتا ہے کہ وہ پہلے اس جہاز کو بغیر انسانوں کے چلائے، اور اگر یہ مشن کامیاب ثابت ہوں تو پھر آئندہ پروازوں میں انسانوں کو بھی شامل کیا جائے۔

اورائن کی روانگی خراب موسم کی وجہ سے ملتوی

اورائن انسانوں کو مریخ تک لے جا سکتا ہے

جمعرات کو تیز ہواؤں اور لانچ راکٹ میں فنی خرابی کی وجہ سے پرواز کی کوششیں ناکام رہیں۔

انجینیئروں کو توقع ہے کہ وہ فنی خرابی دور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، البتہ موسم آج بھی ناقابلِ اعتبار ہے۔

جمعے کو بھی خراب موسم کی پیشن گوئی کی گئی ہے، تاہم اورائن کو اڑانے کے لیے صرف چند منٹ کا سازگار موسم درکار ہے۔

کیپ کنیورل میں لانچ کے لیے دستیاب وقفہ مقامی وقت کے مطابق صبح 07:05 سے لے کر 09:44 ہے۔

اورائن کا ڈیلٹا فور ہیوی راکٹ بحرِ اوقیانوس کے اوپر پرواز کرتا ہوا زمین کے گرد دو چکر لگائے گا۔

دوسرے چکر کے دوران ڈیلٹا اورائن کو 5800 کلومیٹر کی بلندی تک لے جائے گا، جس کے بعد یہ دوبارہ زمین کی طرف تیزی سے گرنا شروع ہو جائے گا۔

توقع ہے کہ کیپسیول کرۂ ہوائی میں داخل ہوتے وقت 30 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار اختیار کر لے گا۔

ہوا کی رگڑ سے جہاز کے نچلے حصے کا درجۂ حرارت دو ہزار ڈگری سینٹی گریڈ ہو جائے گا۔

اس مشن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جہاز کو حرارت سے بچانے والے نظام کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

اگر اورائن اس امتحان میں پورا اترا تو یہ کئی پیراشوٹ استعمال کر کے کیلی فورنیا کے مغرب میں ساحل سے ایک ہزار کلومیٹر دور بحرالکاہل میں جا گرے گا۔

شروع سے آخر تک مشن ساڑھے چار گھنٹے میں مکمل ہو جانا چاہیے۔

امریکی بحریہ کے جہاز بحرالکاہل میں اس جگہ کے آس پاس موجود رہیں گے جو کیپسیول کو ساحل تک لے آئیں گے تاکہ اس کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

اورائن اپالو مشن سے ملتا جلتا ہے جو 1960 اور 70 کی دہائیوں میں انسان کو چاند تک لے گیا تھا، تاہم یہ جسامت میں اپالو سے بڑا ہے اور اس میں جدید ترین نظام نصب ہیں۔

اسی بارے میں