پرانی بیٹریوں سے کچی آبادیاں روشن کرنے کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ IBM
Image caption بھارت میں 40 کروڑ افراد کو بجلی میسر نہیں اور وہ متبادل نظام پر منحصر ہیں

ایک نئی تحقیق کے مطابق لیپ ٹاپ کی پرانی بیٹریوں میں اتنی توانائی باقی ہوتی ہے کہ ان کی مدد سے کچی آبادیوں کے مکانات میں روشنی کی جا سکے۔

کمپیوٹر بنانے والے امریکی ادارے آئی بی ایم کی جانب سے کروائی گئی تحقیق میں جب ان پرانی بیٹریوں کا جائزہ لیا گیا تو ان میں سے 70 فیصد میں اتنی طاقت تھی کہ وہ ایک ایل ای ڈی لائٹ کو ایک برس تک روزانہ چار گھنٹے روشن رکھ سکیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ان بیٹریوں کا استعمال بجلی فراہم کرنے والے موجودہ متبادل سے سستا ہے وہیں اس سے ’ای ویسٹ‘ یا الیکٹرانک سامان کے فضلے کے مسئلے سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔

پرانی بیٹریوں سے توانائی کے حصول کا تجربہ رواس برس بھارتی شہر بنگلور میں کیا گیا ہے۔

یہ بیٹریاں کچی بستی کے رہائشیوں کے علاوہ پھیری والوں اور خوانچہ فروشوں میں بھی مقبول ہوئیں۔

اس سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جن گھروں تک بجلی نہیں پہنچ رہی ہے یا غریب افراد میں بجلی فراہم کرنے والا یہ پیک مقبول ہوگا۔

انجینیئرنگ کے معروف امریکی ادارے ایم آئی ٹی کے ٹیکنالوجی ریویو کے مطابق بھارت میں آئی بی ایم کی ٹیم کے ذریعے پیش کردہ تصور پر اب مزید تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ IBM
Image caption آئی بی ایم کے مطابق ارجر نامی ایک کٹ سے سال بھر تک روزانہ چار گھنٹے ایک لیڈ بلب جلایا جا سکتا ہے

آئی بی ایم ٹیم نے جو پیک بنایا ہے اسے انھوں نے ’ارجر‘ کا نام دیا ہے۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ اس سے وہ ان 40 کروڑ افراد کی مدد کرسکیں گے جنھیں بھارت میں بجلی میسر نہیں۔

فی الحال اس کا متبادل شمسی توانائی ہے جو کہ زیادہ خرچیلا اور پیچیدگیوں بھرا ہے۔

ارجر کو جس کی معیاد ایک سال ہوگی اگر وافر تعداد میں تیار کیا گیا تو اس کی قیمت صرف 600 روپے یا 10 امریکی ڈالر ہوگی۔

انھوں نے کہا: ’ارجر میں یہ صلاحیت ہے کہ اس الیکٹرانک کوڑے کچرے کو توانائی کی کمی کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے جس سے دونوں مسائل کا قابل عمل حل سامنے آتا ہے۔‘

ٹیم کا کہنا ہے کہ جانچ میں اس کا نتیجہ مثبت آیا ہے اور اس کا استعمال کرنے والوں یہ مشورہ دیا ہے کہ اس میں ایسے تار استعمال کیے جائیں جسے چوہے نہ کاٹ سکیں تو بہتر ہوگا۔

دنیا میں ای ویسٹ ایک بڑا مسئلہ ہے اور امریکہ میں ہردن تقریبا ڈیڑھ لاکھ کمپیوٹر پھینکے جاتے ہیں جو سالانہ تقریبا پانچ کروڑ بنتے ہیں۔

اسی بارے میں