’ملیریا سے مرنے والوں کی تعداد نصف ہوگئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ملیریا انفیکشن والے مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ عالمی پیمانے پر ملیریا کے خلاف کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اس مرض کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد نصف ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کو مشرقی بحیرۂ روم کے خطے میں شامل کیا گیا ہے، اور وہاں بھی سنہ 2000 کے بعد سے ملیریا سے ہونے والی اموات کی شرح آدھی رہ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس خطے میں ملیریا سے ہونے والی اموات کی تعداد سنہ 2000 میں 2166 تھی، جو 2013 میں کم ہو کر 1027 رہ گئی۔ خطے کے دو سب سے متاثرہ ملکوں میں سوڈان اور پاکستان شامل ہیں، جہاں اس خطے کی 90 فیصد اموات واقع ہوئیں: سوڈان میں 688 اور پاکستان میں 244۔

اس خطے میں ملیریا کے کل مریضوں کا 27 فیصد حصہ رہتا ہے۔

تاہم رپورٹ میں لکھا ہے کہ غیر معیاری ڈیٹا کی ترسیل کے باعث پاکستان میں سال بہ سال رجحان کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان میں مرض پیدا کرنے والا جرثومہ پلازموڈیم فیلسی پیرم نہیں، جو افریقہ میں بڑی تعداد میں اموات کا باعث بنتا ہے، بلکہ یہاں پلازموڈیم وائویکس ملیریا پیدا کرتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

صحت کے ادارے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سنہ 2001 سے 2013 کے درمیان دنیا بھر میں 43 لاکھ لوگوں کو ملیریا کے مرض سے مرنے سے بچایا گیا ہے جن میں سے 39 لاکھ بچے شامل ہیں جو پانچ سال کی عمر سے کم ہیں اور یہ افریقہ میں زیرِ صحارا علاقوں میں پیدا ہونے والے بچے ہیں۔

سنہ 2004 میں ملیریا کے خطرے سے دوچار لوگوں میں صرف تین فی صد کے پاس مچھردانیاں تھیں جبکہ اب 50 فی صد کے پاس مچھردانیاں ہیں۔

اس ضمن میں اب معائنے کے معیار کی سطح بھی بلند ہوئی ہے اور لوگوں کو اس مرض کے علاج کے لیے دوائیاں بھی مل رہی ہیں۔ یہ بیماری مچھر کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption افریقہ میں جہاں ملیریا سے 90 فی صد اموات ہوتی ہیں وہاں بھی اس کے کیسوں میں زبردست کمی آئی ہے

عالمی ادارے نے کہا کہ بہت سے ممالک سے ملیریا کا خاتمہ ہو رہا ہے۔

سنہ 2013 میں پہلی بار آزربائیجان اور سری لنکا نے اس معاملے میں صفر کیس بتائے تھے اور اس کے بعد 11 دوسرے ممالک نے بھی دائرہ صفر تک محدود رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

افریقہ میں جہاں ملیریا سے 90 فی صد اموات ہوتی ہیں وہاں بھی اس کے کیسز میں زبردست کمی آئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ڈائرکٹر جنرل مارگریٹ چین کا کہنا ہے کہ ’یہ زبردست کامیابیاں بہتر آلات، مزید سیاسی عزم، مقامی پیش قدمیوں اور بین الاقوامی اور ملکی سطح پر زیادہ مالی تعاون کا نتیجہ ہیں۔‘

اسی بارے میں