فیس بک کا ’ڈس لائک‘ بٹن شامل کرنے پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption لوگوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی کرنا نہایت اہم ہے: مارک زکربرگ

سماجی روابط کے لیے دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ کمپنی پیغامات کو ’ڈس لائک‘ یا ناپسند کرنے کا بٹن شامل کرنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سوال و جواب کے ایک سیشن کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ڈس لائک‘ کی سہولت وہ چیز ہے جس کی فرمائش سب سے زیادہ فیس بک صارفین کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ویب سائٹ کو یہ بٹن متعارف کروانے سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ یہ کہیں صارفین کے پیغامات کو نیچا دکھانے کی کوشش میں استعمال نہ ہو۔

فیس بک کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق روزانہ اس کے صارفین ساڑھے چار ارب پیغامات کو پسند کرتے ہیں یعنی ’لائک‘ کا بٹن دباتے ہیں۔

فیس بک کے صدر دفتر میں بات چیت کے دوران مارک زکربرگ نے کہا کہ ’ایک چیز جو ہم خاصے عرصے سے سوچ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسا کیا طریقہ ہو سکتا ہے جو لوگوں کے جذبات کا صحیح عکاس بن سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سے لوگ اپنی زندگی کے افسردہ یا اداس پہلو فیس بک پر دوسروں سے شیئر کرتے ہیں۔ ہمیں اکثر لوگ بتاتے ہیں کہ وہ ان پیغامات کو لائک نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ مناسب نہیں لگتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فیس بک کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق روزانہ صارفین ساڑھے چار ارب پیغامات کو پسند کرتے ہیں

مارک زکربرگ نے کہا کہ ساتھ ساتھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کسی پوسٹ پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لیے ’ڈس لائک‘ کا بٹن مانگ رہے ہیں جو ’ہمارے خیال میں ایک اچھا خیال نہیں ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے نزدیک لوگوں کو ان کے مختلف جذبات کی ترجمانی کرنے کے لیے مختلف طریقے فراہم کرنا بہت اہم ہے۔‘

خیال رہے کہ حال ہی میں فیس بُک نے جعلی فیس بُک لائکس کرانے والے نیٹ ورکس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے ایسے اکاؤنٹس کو جارحانہ طور پر ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک قانونی کارروائیوں کے ذریعے 2 ارب ڈالر کے قریب رقم مختلف مقدمات جعل سازوں سے جیتے ہیں جو ایسے کاروبار چلاتے تھے۔

بہت سارے کاروبار جعلی لائکس کے لیے پیسے دیتے ہیں تاکہ اُن کا کاروبار زیادہ مقبول نظر آئے۔

اسی بارے میں