دمدار ستارہ ’کومٹ 67 پی‘ اندازے سے زیادہ سرمئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 67 پی کی یہ پہلی رنگین تصویر بھی ویسی ہی دکھائی دے رہی جیسی پہلے موصول ہونے والی بلیک اینڈ تصویر تھی۔

خلائی جہاز روزیٹا سے موصول ہونے والی پہلی رنگین تصویر سے لگتا ہے کہ 67 پی دمدار ستارہ ماہرین کے اندازے سے زیادہ تاریک ہے اور اس کا رنگ ایک جیسا ہی ہے۔

موصول ہونے والی پہلی تصویر کو بڑی احتیاط کے ساتھ ماہرین نے سرخ، سبز اور نیلے رنگوں کے مختلف فلٹرز سے بھی گزار کے دیکھا ہے، تاہم اس کے باوجود یہ تصویر ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 67 پی ایک رنگ کا ہے اور یہ رنگ سرمئی ہے۔

یہ تصویر دمدار ستارے پر ایک روبوٹ’فیلے‘ اتار کر اور اس پر نصب ’اوسرس‘ کیمرے سے کھینچی ہے۔

اوسرس کیمرے کی ذمہ دار ٹیم کا کہنا ہے کہ اس تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ 67 پی ’کوئلے کی طرح سیاہ‘ ہے اور اس دمدار ستارے کی سطح حیرت انگیز حد تک ہموار ہے۔

مذکورہ تصویر میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ نے جاری کی ہے جو کہ اوسرس کیمرہ بنانے والی کمپنیوں اور اداروں کے اشتراک میں سب سے بڑا ادارہ ہے۔

روزیٹا پر لگے ہوئے اوسرس کیمرے کی تصاویر پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ہولگر شیئرکس کے بقول ’اوسرس روزیٹا کی آنکھ ہے‘

تاہم یہ کیمرا انسانی آنکھ سے مختلف ہے جس کی وجہ سے رنگین تصویر حاصل کرنے کے لیے آپ کو تین مختلف رنگوں میں اتاری گئی تصاویر کو ملا کر دیکھنا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ESA
Image caption ازہ ترین تصویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی 67 کا رنگ خاصا گہرا ہے

اس لحاظ سے رنگین تصویر بنانا خاصا مشکل کام ہے کیونکہ نہ صرف روزیٹا خود مسلسل حرکت کر رہا ہو بلکہ دمدادر ستارہ بھی مسلسل گھوم رہا ہے جس کی وجہ سے حتمی تصویر حاصل کرنے کے لیے ماہرین کو بدلتے ہوئے زاوئیوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

اس عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ 67 پی کی یہ پہلی رنگین تصویر بھی ویسی ہی دکھائی دے رہی جیسی پہلے موصول ہونے والی بلیک اینڈ تصویر تھی۔

اس حوالے سے ڈاکٹر ہولگر شیئرکس کا کہنا تھا کہ ’لگتا ہے کہ 67 پی کا رنگ سرمئی ہے، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ دمدار ستارہ کوئلے جیسا سیاہ ہے۔‘

’ جب ہم تصویر کو اتنا روشن کرتے ہیں کہ جہاں ہمیں دم دار ستارے کے خدو خال دکھائی دینا شروع کرتے ہیں، تو اس رنگ بہت ہلکا سرمئی نظر آتا ہے، تاہم یہ رنگ ایسا بھی نہیں کہ آپ کہہ سکیں کہ یہ کسی رنگین چیز کی تصویر ہے۔‘

’زمین سے جائزہ لیتے ہوئے سائنسدان پہلے ہی یہ مشاہدہ کر چکے تھے کہ نظام شمسی میں شامل دیگر چھوٹے اجسام کی طرح پی67 بھی سرمئی رنگ کا ہے۔‘

لیکن تازہ ترین تصویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی 67 کا رنگ خاصا گہرا ہے اور یہ ہر جگے سے کوئلے کی طرح سیاہ دکھائی دیتا ہے۔

اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پی67 کی سطح تقریباً ہرجگہ ایک ہی جیسی ہے اور اس پر برف کے کوئی آثار نہیں ہیں کیونکہ اگر اس پر برف ہوتی تو تصویر میں وہ نیلی دکھائی دیتی۔

یاد رہے کے اس سے قبل زمین سے 50 کروڑ کلومیٹر دور واقع پی 67 نامی دمدار ستارے پر اتارے جانے والے خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کی بیٹری ختم ہوگئی تھی اور اسے سٹینڈ بائی حالت میں چلایا جاتا رہا۔

تاہم اس نے اپنی بیٹری کے خاتمے سے قبل مزید معلومات زمین پر بھیجی تھیں اور سائنسدانوں کے مطابق اس مختصر روبوٹ سے جس کارکردگی کی امید تھی، وہ اپنی ذخیرہ شدہ توانائی کے خاتمے سے قبل بھیج چکا تھا۔

اسی بارے میں