’بحیرہ قطب شمالی میں برف اندازوں سے زیادہ سخت جان‘

بحیرہ منجمد شمالی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قطب شمالی پر برف پگھلنے میں کمی واقع ہوئی ہے

بحیرہ قطبِ شمالی کی برف شاید بہت سے مبصرین کے اندازے سے زیادہ سخت جان ثابت ہوئی ہے۔

اندازوں کے مطابق اگرچہ عالمی حدت نے قطب شمالی کو برف کے ایک آزاد تودے کی طرح کر دیا ہے لیکن یورپ کے کریو سیٹ مشن کے مطابق ایسا ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔

اس خلائی جہاز نے اکتوبر میں، جب گرمیوں کے بعد برف جمنا شروع کر دیتی ہے، 7500 کیوبک کلو میٹر برف کی تہہ کا معائنہ کیا۔ یہ سنہ 2013 سے کچھ ہی کم تھی جب 8,800 کیوبک کلو میٹر کا معائنہ کیا گیا تھا۔

دو ٹھنڈی گرمیوں نے نہ صرف برف کی اس چادر میں اضافہ کیا بلکہ اس کے حجم کے کافی حصے کو برقرار بھی رکھا۔

اگرچہ یہ برف 1980 کی دہائی کی اکتوبروں کی برف سے بہت کم ہے جو کہ 20,000 کیوبک کلو میٹر تک تھی، پھر بھی ایسی کوئی شہادت نہیں ہے کہ اس کی تباہی ناگزیر ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے نرک سینٹر فار پولر آبزرویشن اینڈ ماڈلنگ (سی پی او ایم) کی ریچل ٹلنگ کہتی ہیں کہ ’ہمیں نظر آتا ہے کہ حجم کم سے کم ہوتا جا رہا ہے، لیکن پھر ذرا نسبتاً کم گرم موسم آتا ہے تو یہ واپس آ جاتا ہے اور ایک نیا معیار بنا لیتا ہے۔‘

’سو ادھر جو ہو رہا ہے وہ ایک ایسی تنزلی ہے جو کہ ٹیڑھے میڑھے دانتوں کی طرح ہے، جہاں ہم حجم تو کھو دیتے ہیں لیکن پھر جب ایک سال ذرا برف پگھلنے کا موسم چھوٹا ہوتا ہے تو برف کا کچھ حصہ واپس آ جاتا ہے۔‘

برطانوی تحقیق کار اس ہفتے سان فرانسسکو میں ہونے والی امیریکن جیوفیزیکل یونین کی موسمِ خزاں کے اجلاس میں اپنا کام پیش کر رہی ہیں۔

کریو سیٹ یورپی سپیس ایجنسی (ایسا) کا قطب شمالی کی مانیٹرنگ کے لیے مختص کردہ پلیٹ فارم ہے۔

اس پر بہت ہی جدید ریڈار کا نظام نصب ہے جس کی مدد سے سائنسدان بحیرہ قطب شمالی پر برف کی تہہ پر نظر رکھتے ہیں۔

2010 میں لانچ کی جانے والی سیٹیلائیٹ نے گزشتہ تین برسوں میں موسمِ خزاں کے برف کے حجم میں کمی دیکھی تھی۔ اس میں سب سے زیادہ کمی 2011 اور 2012 میں 5,300 اور 5,400 کیوبک کلومیٹر دیکھی گئی تھی۔ لیکن پھر اگلے دو برسوں میں ٹھنڈے موسم کے ساتھ ہی برف میں کمی کے اس رجحان میں بھی کمی آئی۔

اب کریو سیٹ کے پانچ سال کی اکتوبر کی اوسط کافی مستحکم حجم ظاہر کرتی ہے، بلکہ اس میں سنہ 2012 میں تو تھوڑی سی بہتری بھی نظر آئی۔

تاہم کریو سیٹ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ قطب شمالی میں مستقبل کے رجحانات کے متعلق کوئی پیشن گوئی کرنے سے پہلے ابھی بہت لمبے عرصے کے لیے بہت زیادہ ڈیٹا اکٹھا کرنا ضروری ہے۔

اسی بارے میں