بھارت کا خلا بازوں کو لے جانے والے راکٹ کا کامیاب تجربہ

تصویر کے کاپی رائٹ DD News
Image caption یہ 630 ٹن وزنی سٹیلائٹ جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے علاقے سری ہری کوٹا سے جمعرات کی صبح لانچ کیا گیا

بھارت نے اب تک کا اپنا سب سے بڑا راکٹ اور ایک کیپسول لانچ کر دیا ہے جو ممکنہ طور پر خلا بازوں کو بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ 630 ٹن وزنی سٹیلائٹ جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے علاقے سری ہری کوٹا سے جمعرات کی صبح لانچ کیا گیا۔

یہ نیا راکٹ نسبتاً وزنی سٹیلائٹ بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارت نے حالیہ برسوں میں کم وزنی سٹیلائٹ کامیابی سے لانچ کیے ہیں لیکن بھاری سیٹلائٹ بھیجنے میں مسائل کا سامنا تھا۔

اطلاعات ہیں کہ نیا راکٹ رابطے کے لیے بنائے گئے 4000 کلو وزنی سیٹلائٹ لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کے بھارت کو اب اس معاملے میں دوسرے ممالک کے لانچرز کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISRO
Image caption ایک کیپسول بھی لانچ کیا گیا ہے ہے جو ممکنہ طور پر خلا بازوں کو بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے

اس لانچ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ میں کہا ’جی ایس ایل وی، ایم کے 3 کی کامیاب لانچ ہمارے سائنسدانوں کے محنت اور قابلیت کی ایک اور کامیابی ہے۔ ان سب کو ان کی کوششوں کے لیے مبارکباد۔‘

بھارتی کے خلائی ادارے اسرو کے چیئرمین کے رادھا کرشنن کا کہنا ہے کہ ’یہ بھارت کی خلائی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔‘

راکٹ کا مرکزی کارگو ایک بھارتی ساختہ کیپسول تھا جس میں دو سے تین خلابازوں کو لے جانے کی صلاحیت ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا خلائی ادارہ خلا بازوں کو خلا میں بھیجنے کے لیے حکومت سے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اور یہ کامیاب لانچ اس ضمن میں پہلا قدم ہے۔

بھارت نے ستمبر میں کامیابی سے مریخ کے مدار میں ایک سٹیلائٹ بھیجا تھا اور وہ ایسا کرنے والا چوتھا ملک بن گیا۔

سائنسی امور کے نامہ نگار صحافی پلو باگلا نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ اس راکٹ کو 170 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے، جو دنیا کی باقی خلائی ایجنسیوں کے مقابلے صرف نصف خرچہ ہے۔

اگر ایشیائی خلائی ریس کی بات کی جائے تو ہندوستان چین سے ہمیشہ پیچھے رہا ہے، لیکن مگليان کے بعد مریخ کی ریس میں ہندوستان چین سے آگے بڑھ گیا ہے۔

’اب بھارتی خلائی ایجنسی دوسرے ممالک کے سیٹلائٹ بھیجنے میں ان کی مدد کر سکے گی۔ منگل يان سے لے کر چدريان اور جی ایس ایل وی، ایم کے 3 کی کامیابی کے بعد اب دوسرے ملک اپنے کمرشل سیٹلائٹ لانچ کے لیے بھارتی خلائی ادارے کا رخ کریں گے۔‘

باگلا کے مطابق ’اس کے دو سبب ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہندوستان کے پاس سستی ٹیکنالوجی موجود ہے اور دوسرا یہ کہ ہمارا معیار اب عالمی سطح پر ثابت ہو چکا ہے۔. یعنی اربوں ڈالر کی لانچ مارکیٹ میں ہندوستان اپنے لیے ایک قابل اعتماد جگہ بنا سکے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب بھارتی خلائی ایجنسی دوسرے ممالک کے سیٹلائٹ بھیجنے میں ان کی مدد کر سکے گی

اسی بارے میں