’ویڈیو گیمز کو اولمپک گیمز کا حصہ بنانا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پروفیشنل سطح پر ہونے والے ای سپورٹس کے مقابلوں کو لاکھوں افراد دیکھنے آتے ہیں

ویڈیو گیم ’ورلڈ آف وار کرافٹ‘ کے خالق کا کہنا ہے کہ ویڈیو گیمز یعنی ای سپورٹس کو اولمپک گیمز کا حصہ بنانا چاہیے۔

بلزرڈ اینٹرٹینمنٹ کے سابق اعلیٰ اہلکار روب پارڈو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کی تعریف بہت وسیع ہو گئی ہے۔

’ویڈیو گیمز ایک ایسی کھیل ہیں جن کو شائقین کی بڑی تعداد دیکھنے کے لیے آتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پروفیشنل سطح پر ہونے والے ای سپورٹس کے مقابلوں کو لاکھوں افراد دیکھتے ہیں۔

حال ہی میں جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہونے والے ای سپورٹس مقابلوں کو دیکھنے کے لیے 40 ہزار افراد سٹیڈیم پہنچے جبکہ اس سے بھی بڑی تعداد نے ان مقابلوں کو آن لائن دیکھا۔

پارڈو نے کہا کہ ’ای سپورٹس کا اولمپکس میں شامل ہونے کی بڑی اچھی وجہ ہے۔ یہ بہت سخت مقابلے والی گیم ہے جس میں فریقین بہت تیزی سے اپنی چالیں چلتے ہیں۔ اگر ان کے ایک منٹ میں ایکشن دیکھیں تو وہ 300 سے زیادہ ہوں گے۔‘

تاہم پارڈو نے اس بات کو تسلیم کیا کہ کچھ لوگ ویڈیو گیمز کی نسبت جسمانی سپورٹس کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ’لیکن اس کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ آپ کے نزدیک کھیل کی تعریف کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’اگر آپ کے نزدیک کھیل وہ ہے جس میں بہت جسمانی ورزش شامل ہے تو پھر تو بات ختم ہو گئی۔ لیکن جب میں بہت سے کھیل دیکھتا ہوں جو اولمپکس کا حصہ ہیں تو مجھے کھیل کی تعریف پر شبہ ہوتا ہے۔‘

اولمپکس میں کھیل کا شامل کرنا ایک پیچیدہ مرحلہ ہے۔ اور جب سے اولمپکس کھیلوں کی تعداد کی حد مقرر کی گئی ہے، یہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں