ایبولا ویکسین کی کامیابی سے وابستہ امیدیں

Image caption اس نئے تجربے میں 18 اور 50 سال کے 72 رضاکار شامل ہیں جن پر ایبولا کی نئی ویکسین آزمائی جائے گی

آ کسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے صحت مند رضاکاروں پر ایبولا کی نئی ویکسین آزمانے کے تجربات شروع کر دیے ہیں۔

گذشتہ سال ستمبر میں بھی آ کسفورڈ میں ایبولا کی مختلف ویکسین آزمانے کا تجربہ کیا گیا تھا۔

اس نئے تجربے میں 18 اور 50 سال کے 72 رضاکار شامل ہیں جن پر ایبولا کی نئی ویکسین آزمائی جائے گی۔

جانسن اینڈ جانسن فارماسوٹیکل کمپنی کی بنائی گئی اس ویکسین کو بندروں پر کامیابی سے آزمایا جا چکا ہے۔

آ کسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر میتھیو سنیپ کا کہنا ہے کہ تمام رضاکاروں پر ایک ماہ کے اندر اندر ایبولا کی نئی ویکسین آزمائی جائے گی۔

اس تجربے کے پہلے مرحلے میں رضاکاروں کو انجکشن لگائے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک یا دو ماہ بعد انھیں ایبولا کی ایک اور ڈوز دی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس تجربے کے پہلے مرحلے میں رضاکاروں کو انجکشن لگائے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک یا دو ماہ بعد انھیں ایبولا کی ایک اور ڈوز دی جائے گی

اسی طرح کے تجربات امریکہ اور تین افریقی ممالک میں بھی کیے جائیں گے۔

جانسن اینڈ جانسن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ فیز ٹو میں آئندہ تین ماہ کے دوران یہ ویکسین ٹرائل مقاصد کے لیے یورپ اور رواں سال کے وسط تک افریقی ممالک لائیبیریا، گنی اور سیرالیون میں استعمال کے لیے دستیاب ہو گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس سال ایبولا ویکسین کے 20 لاکھ ڈوزز بنانے کے قابل ہو گی۔

حالیہ چند ماہ میں جان لیوا وائرس ایبولا کے تیزی سے پھیلاؤ نے دوا ساز کمپنیوں کو اس وائرس کے کامیاب علاج کے لیے ویکسین بنانے کے کوششوں میں مصروف کر دیا تھا۔

ستمبر میں کسفورڈ میں ہی جس ویکسین کا تجربہ کیا گیا تھا اس کے نتائج جلد ہی سامنے آنے والے ہیں۔ اس ویکسین کو گلیکسو کمپنی نے امریکی ادارۂ صحت کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔

اگر اس ویکسین کے نتائج کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسے اسی ماہ ایبولا سے متاثر افریقی ممالک میں علاج کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا جائے گا۔

ایبولا کی تیسری ویکسین اس وقت سوئٹزرلینڈ میں آزمائی جا رہی ہے۔

ادھر روس میں بھی ایبولا کی ویکسین بنانے پر کام جاری ہے۔

اسی بارے میں