چلتے پھرتے پیدا کریں اپنی بجلی

Image caption یہ آلات پاؤں سے پیدا ہونے والی حرکی توانائی کو مقناطیس اور کائلز کی مدد سے بجلی یا چارج میں تبدیل کر سکتے ہیں

جرمنی میں ماہرین جوتے کے سائز کی ایسی چیزیں بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن سے آپ پیدل چل کر بجلی پیدا کر سکیں گے۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اب آپ اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے الیکٹرانک آلات کو چارج کر سکیں گے اور آپ کو چھوٹے آلات کے لیے بیٹری اٹھائے پھرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ماہرین نے اس سلسلے میں دو قسم کے آلات تخلیق کیے ہیں، جن میں سے ایک کو انھوں نے ’شاک ہارویسٹر‘ یا جھٹکے سے بجلی کاشت کرنے والے آلے کا نام دیا اور دوسرے کو ’سونگ ہارویسٹر‘ یا لہر کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے آلے کا نام دیا ہے۔ شاک ہارویسٹر اس وقت چارج پیدا کرتا ہے جب آپ کی ایڑھی زمین پر لگتی ہے جب کہ سونگ ہارویسٹر اس وقت کام کرے گا جب آپ پاؤں کو ہوا میں لہرا رہے ہوں گے۔

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی ضعیف افراد کے جوتوں کے تسمے خود بخود باندھتے میں بھی استعمال کی جا سکے گی۔

اس نئی ٹیکنالوجی کی تفصیلات نت نئے آلات کے جریدے ’سمارٹ مٹیریل اینڈ سٹرکچر‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Smart Materials and Structures
Image caption نئی ٹینکنالوجی ضعیف افراد کے جوتوں کے تسمے خو بخوبد باندھتے میں بھی استعمال کی جا سکے گی۔

جرمنی کی کمپنی ایچ ایس جی۔ آئی ایم آئی ٹی سے منسلک تحقیقی مرکز کے کیلوس یلی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک وائرلیس ٹرانسمٹر اور ایک سادہ سینسر کو چارج کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

’ہم جن آلات پر کام کر رہے ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جسے ہم نے جوتے کے اندر لگایا ہے اور یہ آلہ آپ کے چلنے کی رفتار میں کمی بیشی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مقناطیسی قوت کو ناپتا ہے۔

’اس قسم کے سینسر میں جو معلومات جمع ہوں گی، آپ ان کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کتنی دیر اور کس سمت میں چلتے رہے ہیں۔ مثلاً کسی حادثے کے بعد فوری مدد پہنچانے والے اہلکار اس آلے کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کسی بڑی عمارت میں ہنگامی صورتحال کے وقت کس راستے سے اندر داخل ہوئے تھے۔‘

بجلی پیدا کرنے والے دونوں نئے آلات یا ڈیوائسِز آپ کے پاؤں سے پیدا ہونے والی حرکی توانائی کو مقناطیس اور تاروں یا کائلز کی مدد سے بجلی یا چارج میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

ان دونوں آلات سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار بہت کم ( تین یا چار مِلی واٹ) تک ہو گی، جو کہ ایک سمارٹ فون کو چارج کرنے کے لیے ناکافی ہوگی کیونکہ سمارٹ فونز کو تقریباً دو ہزار ملی واٹ چارج چاہیے ہوتا ہے، لیکن آپ اس سے چھوٹے چھوٹے سینسرز اور دیگر کئی چھوٹے آلات کو چارج کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ آلات مستقبل کی کئی ایجادات کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

نئی ٹیکنالوجی بنانے والی ٹیم کے رکن کیلوس یلی نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ ابھی انھیں اس مسئلے کا سامنا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے آلے سے کیسے زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، تاہم ’ہمارا خیال ہے کہ ہم ایک نہایت چھوٹے سائز کی چیز سے چارج پیدا کرنے کے قابل ہو گئے ہیں، اگرچہ اس چارج کی مقدار بہت کم ہے۔

کیلوس یلی کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک سونگ ہارویسٹر کا تعلق ہے تو اس کی تخلیق کے پیچھے کارفرما بنیادی خیال یہی تھا کہ بوڑھے لوگوں کے لیے کوئی ایسی ٹیکنالوجی بنائی جائے جس سے انھیں تسمے باندھنے اور کھولنے کی مصیبت سے چھٹکارا مل سکے۔ ’سونگ ہارویسٹر یہ کام کر سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں