درد دل کے واسطے پیدا کیا۔۔۔

Image caption جیانگ یونگفینگ اور اس چھوٹے بچے کے درمیان سٹیم سیلز کا یہ میچ ایک طبی معجزہ ہے

انسانی ہمدردی اور سخاوت کے ایک حیران کن واقعے میں چین کے ایک شخص نے اپنے سٹیم سیل دور دراز ملک کے ایک اجنبی کو عطیہ کر دیے­۔

شنگھائی کے ایک ڈرائیور نے سٹیم سیل رجسٹریشن پر خود کو رجسٹر کرواتے ہوئے یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کے سٹم سیل کا میچ اتنی جلدی مل جائے گا اور وہ بھی انگلینڈ سے ایک سات سالہ بچے کا۔

ڈرائیور جیانگ یونگفینگ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے سٹم سیل عطیہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انھیں اس بات کا پتہ چلا تو وہ حیران ہوئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے فیصلے پر بھی خوش ہوئے کہ ان کے سٹیم سیل ایک آٹھ سالہ بچے کو ملیں گے۔

کینسر یا دیگر خطرناک بیماریوں کے علاج کے لیے سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ ضروری ہے کہ عطیہ دینے والے شخص اور مریض کی سیل ایک جیسے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا نسلی پس منظر بھی ایک جیسا ہو۔

جیانگ یونگفینگ اور اس بچے کے درمیان یہ ڈونر میچ ایک طبی معجزہ ہے۔

جیانگ کا عطیہ وصول کرنے والا چھوٹا لڑکا چینی ورثے کا حامل ہے۔ مسٹر جیانگ نے سٹم سیل سکیم میں شامل ہونے کے لیے اپنے تھوک کا نمونہ دیا جبکہ چین میں اس سکیم میں شامل ہونے والے لوگوں کی تعداد عالمی سٹیم سیل کی رجسٹری میں صرف چار فیصد ہے۔

چینی ریڈ کراس کے شنگھائی ڈویژن سے منسلک ڈاکٹر جانگ کا کہنا ہے کہ چین میں رہنے والے کسی شخص اور چین کی سرحدوں کے باہر کسی شخص کے درمیان سٹم سیل میچ غیر معمولی واقعہ ہے۔

’امریکہ اور چین میں رہنے والے چینی لوگوں کی تعداد کم ہے اسی لیے زیادہ تر میچ چین کے اندر ہی ہوتے ہیں۔‘

ڈاکٹر جانگ کا کہنا تھا کہ شنگھائی ڈیٹا بیس کا استعمال کرتے ہوئے انھیں 13700 میں سے صرف 320 ممکنہ ڈونر ملے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption سٹیم سیلز ایسے خلیے ہوتے ہیں جو کسی بھی خلیے کی شکل میں ڈھل سکتے ہیں اور ان کی مدد سے کئی قسم کے امراض کا علاج کیا جا سکتا ہے

مسٹر جیانگ یونگفینگ کا کہنا تھا کہ سٹیم سیل عطیہ کرنے کے دوران انھیں کوئی درد محسوس نہیں ہوا اور یہ خون کی منتقلی کے ذریعے ہوا۔ بعض صورتوں میں سیٹم سیل حاصل کرنے کے لیے ڈونر کے کولھے کی ہڈی سے گودا نکالنا پڑتا ہے جو خاصا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔

مسٹر جونگ کو اس طریقے سے کسی بھی طرح کے برے اثرات کا خطرہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے بھی غمگین نہیں ہیں کہ انھیں اس بچے کا نام نہیں معلوم جسے ان کے سیل دیے جائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس بکھیڑے سے نجات پانا چاہتے ہیں تا کہ ان کے سٹم سیل جلد سے جلد انگلینڈ میں اس چھوٹے بچے کو مل جائیں اور وہ صحت مند ہو جائے اور ایک اچھی زندگی بسر کر سکے۔

اسی بارے میں