دل کے دورے کے ٹیسٹ سے خواتین کی جان بچ سکتی ہے

Image caption دل کا دورہ طبی ایمرجنسی ہوتی ہے اور اس کی قبل از وقت تشخیص سے مریض کی زندگی بچ سکتی ہے

ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ خون کے ایک نئے اور زیادہ حساس ٹیسٹ سے ڈاکٹر کسی خاتون میں دل کا دورہ پڑنے کے امکان کو دوگنا بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔

اس ٹیسٹ میں اس پروٹین کی خفیف سی موجودگی کا پتہ چل سکتا ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ابھی تک مروجہ معیاری ٹیسٹوں میں خون میں ٹروپونن نامی اس پروٹین کی زیادہ بڑی مقدار کا پتہ چلایا جا سکتا تھا۔

ایڈنبرا کی رائل انفرمیری کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئي ہے کہ ابھی ہونے والے معیاری ٹیسٹ میں سینے میں درد کی شکایت کے کئی کیسوں میں دل کے دورے کا پتہ نہیں چل پاتا۔

دل کا دورہ طبی ایمرجنسی ہوتی ہے اور اس کی قبل از وقت تشخیص سے مریض موت کے منھ میں جانے سے بچ سکتا ہے۔

عام طور پر سینے میں درد کی شکایت کے بعد ڈاکٹر خون کے ٹیسٹوں کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا کوئی شخص دل کے دورے کا شکار تو نہیں۔ لیکن اگر ٹیسٹ نارمل آ جائے تو دل کے دورے کی تشخیص نظر انداز ہوجاتی ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی مالی امداد سے کی جانے والی یہ تحقیق برٹش میڈیکل جرنل میں شا‏ئع ہوئی ہے۔ اس میں 1126 مرد و خواتین کا جائزہ لیا گیا، جنھیں دل کے ممکنہ دورے کے سبب داخل کیا گیا تھا۔

معیاری ٹروپونن ٹیسٹ کے استعمال سے عورتوں کے مقابلے مردوں میں دل کے دورے کی دوگنی تشخیص ہوئی یعنی 55 کے مقابلے پر 117۔

لیکن جب زیادہ حساس ٹیسٹ کیا گیا تو خواتین میں دل کے دورے کی تشخیص دوگنی ہو گئی یعنی 111، یا مجموعی خواتین کا 22 فی صد۔

جبکہ مردوں میں اس حساس ٹیسٹ سے زیادہ اضافہ نہیں دیکھا گيا۔

سائنس دانوں نے یہ پایا کہ جن لوگوں میں دوسرے ٹیسٹ سے دل کے دورے کے خطرے کی تشخیص ہوئی تھی انھیں آنے والے برسوں میں موت یا دوسری بار دل کے دورے کا خطرہ زیادہ تھا۔

محقق ڈاکٹر انوپ شاہ نے کہا کہ جب خواتین اور مردوں کی ایک تعداد کا اے اور ای ٹیسٹ ہوتا ہے تو خواتین میں دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کی تشخیص مردوں کے مقابلے کم ہو پاتی ہے۔

Image caption عام طور پر ڈاکٹر دل کے دورے کے معاملے میں خون کی جانچ پر بھروسہ کرتے ہیں

انھوں نے بتایا کہ ’ابھی دس میں سے ایک خاتون کو دل کے دورے کی تشخیص ہو پاتی ہے جبکہ مردوں میں یہ تناسب پانچ میں ایک کا ہے۔

’ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ مرد اور خواتیں کے نتیجوں میں اس فرق کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر ٹروپونن میں خواتین کے لیے جو حد مقرر کرتے ہیں وہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر خون کے ٹیسٹ پر بہت بھروسہ کرتے ہیں اور جن کا نتیجہ نارمل ہوتا ہے اسے بہت جلدی ہسپتال سے خارج کر دیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’بعض وجوہات کے سبب خواتین میں واضح علامات کم ہوتی ہیں اور اگر جانچ میں بھی جواب منفی آتا ہے تو انھیں گھر بھیج دیا جاتا ہے اور انھیں آنے والے چند مہینوں میں دل کا دورہ پڑ جاتا ہے کیونکہ ان کا مناسب طور پر علاج نہیں ہو سکا تھا۔‘

41 سالہ جینی سٹیونس بتاتی ہیں کہ کس طرح انھیں سینے میں درد ہوا اور ان کی جان بچائی گئی۔

ڈاکٹر شاہ اور ان کی ٹیم کا کہنا ہے اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت کہ آیا ٹروپونن کی حد میں کمی کر کے مزید جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

اسی بارے میں