کروز شپ کے حجم کا سیارچہ زمین کے ’بہت قریب‘ سے گزرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Planetary Resources
Image caption ماہرِ فلکیات کے مطابق یہ سیارچہ زمین سے ایک کروڑ بیس لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا تاہم فلکیات اصطلاح میں یہ سیارچہ زمین کے بہت قریب سے گزرے گا

ماہرِ فلکیات کا کہنا ہے کہ ایک کروز شپ کے حجم کا سیارچہ ویلز کے آسمان پر دیکھا جا سکے اور یہ نظارہ 200 سال میں ایک بار ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

ماہرِ فلکیات کے مطابق یہ سیارچہ زمین سے ایک کروڑ بیس لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔ تاہم فلکیات اصطلاح میں یہ سیارچہ زمین کے بہت قریب سے گزرے گا۔

ماہرِ فلکیات جوناتھن پاول کا کہنا ہے کہ یہ بہت نایاب نظارہ ہو گا۔ پاول کے مطابق اس سیارچے کو شام آٹھ بجے جی ایم ٹی کو مشتری اور روشن ستارے سریئس کے درمیان دیکھا جا سکے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ماہرِ فلکیات میں سیارچے 2004 BL86 کے اس نظارے کے باعث کافی ہلچل ہے۔

پاول کا کہنا ہے ’سیارچے زمین کے قریب سے روز ہی گزرتے ہیں لیکن اس میں دلچسپی زیادہ اس لیے ہے کہ یہ کافی بڑا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ رات کے وقت گزرے گا۔‘

ان کا مزید کہنا ہے ’زیادہ تر سیارچے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان کو کم درجے کی ٹیلیسکوپ سے بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ لیکن اس سیارچے کو عام سی دور بین سے بھی دیکھا جا سکے گا۔

پاول کا کہنا ہے کہ یہ سیارچہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے تین گنا فاصلے سے گزرے گا۔

انھوں نے بتایا کہ آسمان پر یہ سیارچہ ایسا لگے گا جیسے بہت سست رفتاری سے سفر کر رہے ہے اور تمام چیزوں کی مخالف سمت میں سفر کر رہا ہے۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا ہے کہ یہ سیارچہ بہت قریب سے گزرے گا اور اس کے بعد 1999 AN10 سنہ 2027 میں اتنے کم فاصلے سے گزرے گا۔