کاسمیٹک سرجری کی مقبولیت میں نمایاں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Jiyeo.com

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2014 میں برطانیہ میں کاسمیٹک سرجری کی مقبولیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

برٹش ایسوسی ایشن آف ایستھیٹک پلاسٹک سرجنز (بیپس) نے کہا ہے کہ 2014 میں کل 45,406 کاسمیٹک سرجریز ہوئیں جو 2013 کے مقابلے پر نو فیصد کم تھیں۔

خواتین میں چھاتی کے ابھار میں اضافے کے لیے بریسٹ امپلانٹ اور ناک کی سرجری میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی اور ان کی تعداد ایک چوتھائی کم ہو گئی۔

پلاسٹک سرجری کا تلخ پچھتاوا

اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ صنعت بریسٹ امپلانٹ کے ایک سکینڈل کے بعد سے کڑی نگرانی کی زد میں ہے، اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سرجنوں پر نئے قواعد لاگو کیے جائیں۔

گذشتہ سال برطانیہ میں دس اہم ترین کاسمیٹک آپریشن یہ تھے:

  1. چھاتی کے ابھار میں اضافہ: 23 فیصد کمی
  2. آنکھ کے پپوٹے کی سرجری: 1 فیصد کمی
  3. فیس لفٹ: 1 فیصد اضافہ
  4. چھاتی کے ابھار میں کمی: 1 فیصد اضافہ
  5. چربی میں کمی (لائپوسکشن): 7 فیصد اضافہ
  6. ناک کی سرجری: 24 فیصد کمی
  7. چربی کی منتقلی: 4 فیصد کمی
  8. پیٹ میں کمی: 20 فیصد کمی
  9. ابرو کی اٹھان: 7 فیصد کمی
  10. کان کی شکل میں تبدیلی: 20 فیصد کمی

چھاتی کے ابھار میں اضافہ اب بھی خواتین میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔ اس کے مقابلے پر مردوں میں پپوٹے کی سرجری ناک کی شکل میں بہتری کو پیچھے دھکیل کر پہلے نمبر پر آ گئی ہے۔

بیپس کے ترجمان راجیو گروور نے کہا کہ کاسمیٹک سرجری کے رجحان میں کمی کی بڑی وجہ 2012 میں بریسٹ امپلانٹ کا سکینڈل ہے۔

اس سال ایک فرانسیسی کمپنی پی آئی پی نے ہزاروں خواتین میں غیرمعیاری امپلانٹ لگائے تھے۔

راجیو گروور نے بی بی سی کو بتایا: ’2013 میں بریسٹ امپلانٹس کی تعداد اس لیے زیادہ تھی کہ بہت سی خواتین میں پی آئی پی کے امپلانٹ نکال کر انھیں ٹھیک کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ مالی کساد بازاری بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

’کاسمیٹک سرجری ضرورت نہیں بلکہ شوق ہے، اس لیے کفایت شعاری کے اس دور میں لوگ پیسہ بچانا چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں