پرندوں میں قیادت کی منتقلی مسئلہ نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پرندے وی شکل میں اڑتے ہیں اور دو کی جوڑی میں آگے پیچھے برابر وقت اڑتنے میں گزارتے ہیں اور توانائی بچاتے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے پرندوں کے جھنڈ میں رہنمائی کا معملہ حل کر لیا ہے۔

برطانیہ، جرمنی اور آسٹریا سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے شمالی گنجے لق لق پرندے کا جائزہ لیا اور اس بات کا پتا چلایا کہ کیسے یہ پرندہ دوسرے بڑے پرندوں کی طرح انگریزی کے حرف ’وی‘ کی شکل میں اڑتا ہے۔

انھیں اس بات کا پتا چلا کہ پرندے اس طرح سب سے آگے اڑنے والے پرندے جس کی زیادہ طاقت لگتی ہے کی جگہ لینے کے لیے باری باری آگے آتے ہیں۔

وی شکل میں اڑنے کی وجہ سے پرندے اپنے سے آگے اڑنے والے پرندے کے پروں سے ملنے والی اٹھان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج نیشنل اکیڈمی آف سائنس نے شائع کیے ہیں۔

اس تحقیق کی قیادت پروفیرس برنارڈ وولکل نے کی جن کا تعلق آکسفورڈ یونیورسٹی کے حیاتیات کے شعبے سے ہے۔

پروفیسر وولکل نے کہا کہ وہ یہ جانا چاہتے تھے کہ پرندے کیسے اکٹھے مل کر کام کرتے ہیں اور ہجرت کرنے کی ’بھاری قیمت‘ کیسے چکاتے ہیں۔

یہ پرندے آسٹریا سے اٹلی جاتے ہیں جو کہ 1500 کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور انھوں نے بتایا کہ ’ان میں ہلاکتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں جن میں 30 فیصد بچے زندہ نہیں رہ پاتے اور پہلی ہجرت سے زندہ نہیں بچ پاتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption اس تحقیق سے اندازہ لگایا گیا ہے ہجرت کرنے والے پرندے کیسے اتنے لمبے فاصلے تک اڑتے ہیں

محقق جھنڈ میں ہر ایک پرندے کا پتا چلانے میں کامیاب ہوئے جو آسٹریا میں ایک والڈریپ ٹیم کی مدد سے بنایا گیا تھا جس نے شمالی گنجے لق لق پرندوں کی پرورش کی اور انہیں تربیت دی کہ وہ ایک نہایت ہلکے پھلے طیارے کے پیچھے پیچھ اڑتے ہوئے ہجرت کر سکیں۔

اس غیر معمولی منصوبے کا مقصد شمالی گنجے لق لق پرندوں کو یورپ واپس لانا تھا جن کے شکار کے نتیجے میں بالکل صفایا کر دیا گیا تھا اور یہ ٹیم ان پرندوں کو دوبارہ تربیت دے رہی ہے تاکہ وہ ایک ایسے راستے پر ہجرت کروا سکے جو متروک ہو چکا ہے۔

سائنسدانوں نے ہر پرندے پر جی پی ایس ٹریکر لگایا تھا جو ان پرندوں کی معین جگہ کا اندازہ لگا سکتا تھا۔

اس سے حاصل شدہ ڈیٹا سے تجزیہ کیا گیا کہ پرندوں کی جگہ کیسے تبدیل ہوتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ پرندے جوڑوں کی شکل میں کام کرتے ہیں اور بار بار آگے اور پیچھے ہو کر اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شمالی گنجے لق لق پر کی جانے والی تحقیق کے بارے میں کا جا رہا ہے کہ ایسا دوسرے ہجرت کرنے والے پرندے بھی کرتے ہوں گے

ڈاکٹر وولکل نے بتایا کہ ’ہم نے دیکھا کہ ان جوڑوں میں دونوں پرندوں کے درمیان ایک واضح تعلق تھا جتنا وقت وہ اگے اڑتے ہوئے اور پیچھے اڑتے ہوئے گزارتے تھے۔‘

’جو پرندہ جتنی دیر کے لیے آگے اڑتا تھا تو اتنی ہی دیر کے لیے وہ پیچھے رہ کر بھی اڑتا ہے۔ تو وہ باری باری آگے پیچھے اڑتے ہیں۔‘

محقیقن کو اندازہ تو تھا کہ پرندے تعاون کرتے ہوں گے مگر اس طریقے سے اندازہ نہیں تھا اور ڈاکٹر وولکل نے بتایا کہ ’یہ بہت اہم ہے کیونکہ ہجرت پرندوں کے لیے بہت محنت کا کام ہوتا ہے اور توانائی کے استعمال میں کمی سے وہ اپنے بچاؤ کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔‘

’انہیں جھنڈ کے سارے پرندوں کے ساتھ مل کر اڑنے کی ضرورت نہیں بس صرف ایک پرندے کے ساتھ اپنی پرواز کو ملانا ہوتا ہے اور یہ بہت سادہ اور سمجھداری کا کام ہے۔‘

ڈاکٹر وولکل کا کہنا ہے ایسا معاملہ کئی دوسرے ہجرت کرنے والے پرندوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں