’جی ایس ایچ کیو کی جانب سے خفیہ معلومات کا تبادلہ غیر قانونی‘

Image caption برطانیہ کا ادارہ جی سی ایچ کیو خفیہ معلومات اور سکیورٹی سے متعلق ہے

برطانیہ کے انویسٹیگیٹری پاورز ٹرائبونل (آئی پی ٹی) کا کہنا ہے کہ ملک کے خفیہ ادارے جی سی ایچ کیو کی جانب سے واضح نہ کرنا کہ کس حد تک معلومات امریکہ کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں غیر قانونی عمل تھا۔

یہ وہ معلومات ہیں جنھیں امریکہ کے خفیہ معلومات سے متعلق نگرانی کے پروگرام کے ذریعے اکٹھا کیا گیا۔

برطانیہ میں گذشتہ 15 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب ملک کی کسی خفیہ ایجنسی کے خلاف کوئی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقات کا اختیار رکھنے والے اس ٹرائبونل کے مطابق دسمبر تک ملکی ایجینسی کا امریکہ کی نیشنل سکیورٹی کے ساتھ انٹیلی جنس کا تبادلہ انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق نہیں تھا۔ ٹرائبونل کی نظر میں معلومات کے اس تبادلے میں غیر شفافیت تھی۔

آئی پی ٹی ٹرائبونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دو پیراگراف پر مشتمل تفصیلات کی عوامی تشہیر عوامی نظم ونسق کے حوالے سے ضروری تھی۔

ٹرائبونل کے مطابق اب جی سی ایچ کیو احکامات کی پابند ہے۔

پرائیویسی انٹرنیشنل اور لبرٹی ایجینسی کے خلاف شکایت کرنے والے ابتدائی گروہوں میں شامل تھے۔

لبرٹی نامی گروہ کے قانونی مشیر جیمز ویلش کہتے ہیں کہ ’اب ہم جان گئے ہیں کہ عوام کو دھوکے میں رکھتے ہوئے جی سی ایچ کیو نے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ کر کے غیر قانونی اقدام کیا اور ہمارے حقوق پامال کیے۔‘

ٹرائبونل سمجھتا ہے کہ گذشتہ سال ہونے والی قانونی کارروائی سے یہ سامنے آیا ہے کہ پرائیویسی کی حفاظت کے لیے ناکافی اور محدود انتظامات ہیں۔ ’ہم اس سے متفق نہیں اور اپنی جنگ کو یورپ میں انسانی حقوق کی عدالتوں تک لے کر جائیں گے۔‘

دوسری جانب پرائیویسی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر ایرک کنگ کہتے ہیں کہ ’ہم ایجینسیوں کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ماس سرویلینس پروگرام کی توجیہ دیں اور خفیہ قوانین کی خفیہ تشریحات کریں۔‘

اسی بارے میں