ڈبلیو ایچ او خسرے کے بڑھنے پر پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خیال رہے کے خسرے کی حفاظتی ٹیکے لگانا لازمی نہیں ہے

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ یورپ اور وسطی ایشیا میں خسرہ کی ویکسینیشن کے عمل میں تیزی لائی جائے۔ ڈبلیو ایچ او نے یہ بات ان خطوں میں خسرے کی وبا کے متعدد بار پھوٹنے کے بعد کی ہے۔

2014 میں خسرے کے 22 ہزار کیس سامنے آئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ’ ہم متاثرہ ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خسرے کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔‘

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اگر خسرے کی وبا پر قابو نہیں پایا گیا تو 2015 تک خطے سے بیماری کے ختم کرنے کا ہدف خطرے میں پڑ جائے گا۔

یورپ میں ادارے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سوزانا نے کہا ہے کہ ’اگر ہم دیکھیں تو پچھلی دو دہائیوں کے دوران یورپ میں خسرے کے کیسز میں 96 فیصد کمی آئی ہے اور بیماری کے مکمل خاتمے سے ہم صرف ایک قدم پیچھیں ہیں، خسرے کے حالیہ بڑھتے ہوئے کیسسز ہمارے لیے باعثِ پریشانی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ بغیر کسی تاخیر کے ہم سب کو مل کر حفاظتی ٹیکے لگانے کے نظام کو بہتر کرنا پڑے گا۔خسرے کی موثر ویکسین بنے کے 50 سال بعد بھی اس بیماری سے جانی اور مالی نقصان ہونا ناقابلِ برداشت ہے۔‘

ادارے کے مطابق بہت سے والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے سے انکار کر رہے ہیں اور کچھ کی ان تک رسائی نہیں ہے۔

خیال رہے کے خسرے کی حفاظتی ٹیکے لگانا لازمی نہیں ہے۔

حال ہی میں جرمنی میں خسرے سے ایک 18 ماہ کے بچے کے انتقال کے بعد مختلف حلقے اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکوں کو لازمی قرار دیا جائے۔

دوسری جانب امریکی ریاست کیلفورنیا میں بھی خسرے کے 100 کیس سامنے آئے ہیں۔ بیماری سے متاثرہ بچوں میں زیادہ تر ایسے ہیں جنھوں نے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے تھے۔

اسی بارے میں