ایل جی اور ہواوے کی نئی سمارٹ گھڑیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Huawei
Image caption ایل جی سمارٹ واچ میں فور جی چپ لگائی گئی ہے

موبائل بنانے والی کمپنی ایل جی اور ہواوے نے اینڈورئڈ آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والی نئی سمارٹ گھڑیاں متعارف کرائی ہیں۔

یورپ کے شہر بارسلونا میں جاری تجارتی میلے موبائل ورلڈ کانگریس میں ان گھڑیوں کو پیش کیا گیا۔

یہ نئی گھڑیاں میٹل فریمڈ(دھات کے فریم) کے ڈیزائن پر بنائی گئی ہیں۔

اربن نامی ایل جی کی سمارٹ گھڑی کے دو ورژن ہیں۔جن میں سے ایک اینڈروئڈ پر چلنے والی ہے۔

دوسرے ورژن میں نئے آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ فور جی چپ لگائی گئی ہے جس کی مدد سے اس گھڑی کو فون کے ساتھ جوڑے بغیر فون کال کرنے اور پیغامات بھیجنے کی سہولت موجود ہے۔

ہواوے کی تیار کردہ گھڑی میں بھی اینڈروئڈ سسٹم ہے۔

مارکیٹ ریسرچ فرم کینالیز کے مطابق گذشتہ برس بہت زیادہ تشہیر کرنے کے باوجود گوگل کے آپریٹنگ سسٹم اینڈروئڈ پر چلنے والی صرف 720,000 گھڑیاں مارکیٹ میں بھیجی گئی تھیں۔ ان گھڑیوں میں موٹو 360، اسوس زین واچ اور سیمسنگ گئیر لائیو شامل ہیں۔

تاہم امید کی جا رہی ہے کہ رواں برس اپریل میں ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی گھڑی اور بڑے بجٹ کی مارکیٹنگ مہم چلائے جانے کے بعد ان گھڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوگا۔

اربن واچ نامی یہ گھڑی ایل جی کی تیسری اور چوتھی سمارٹ گھڑی ہے جبکہ موبائل بنانے والی چین کی کمپنی ہواوے کی یہ پہلی سمارٹ گھڑی ہے۔

ٹیکنالوجی تجزیہ کار جارج جیجشویلی کا کہنا ہے ’ہواوے کے مارکیٹ میں آنے سے قیمتوں کا مقابلہ بڑھ جائےگا لیکن بڑھتی ہوئی مارکیٹ کے چیلنجز اور ایپل کی آنے والی گھڑی ہواوے کے آگے بڑھنے کے موقع کو محدود کر سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں