لاکھوں انٹرنیٹ صارفین کو وائرس سے خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مائیکرو سافٹ نے خبردار کیا ہے کہ لاکھوں افراد کا ڈیٹا ضائع ہونے کا خدشہ ہے

مائیکرو سافٹ نے ایک ایسے وائرس کے بارے میں وراننگ جاری کی ہے جس کے ذریعے حملہ آور صارفین کے محفوظ رابطوں کی بھی جاسوسی کر سکتے ہیں۔

’فریک‘(Freak) نامی یہ وائرس اس سافٹ ویئر میں پایا گیا جو ویب سرورز اور ویب صارفین کے درمیان منتقل ہونے والے ڈیٹا کو خفیہ انداز میں تحریر کرتا ہے۔

ابتدا میں یہ سمجھا گیا کہ یہ خامی صرف چند اینڈورئڈ، بلیک بیری فونز اور ایپل کے سفاری ویب براؤزر استعمال کرنے والوں کے سافٹ ویئر میں پائی گئی ہے۔

مائیکرو سافٹ نے خبردار کیا ہے کہ لاکھوں افراد کا ڈیٹا ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

فریک نامی یہ خامی اینکرپشن اور سکیورٹی کے ماہر کارتھیکیان بھرگوان نے دریافت کی۔

اس کے ذریعے حملہ آور کمزور سائٹس اور کمزور اینکرپشن یعنی ڈیٹا کی اینکوڈنگ کرنے کا ایسا طریقہ استعمال کرنے والے صارفین کے درمیان زبردستی غیر ضروری ڈیٹا کی منتقلی کا کام کرتے ہیں اور اس عمل سے وہ ایسا خلا پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کے ذریعے وہ حساس معلومات چرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

اس وائرس کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے اندازے کے مطابق دنیا کی مقبول ترین ایک لاکھ ویب سائٹس کا 9.5 فیصد حصہ اس سے متاثر ہو چکا ہے۔

اس نگراں گروپ نے آن لائن ایک ٹُول بنایا ہے جس کے مطابق صارفین یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ آیا وہ ایسا براؤزر تو استعمال نہیں کر رہے جو اس خامی کا شکار ہو۔

توقع ہے کہ ایپل اگلے ہفتے تک اس حامی کو دور کر دے گا۔ جبکہ گوگل نے میک کے لیے اپنے کروم براؤزر کا ورژن اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ تاہم ابھی یہ معلوم نہیں کہ اینڈورئڈ کے لیے کیا گیا ہے۔

مائیکرو سافٹ نے کہا کہ وہ اس کمزوری کو دور کرنے کے لیے ایک سکیورٹی اپ ڈیٹ پر کام کر رہا ہے۔

اسی بارے میں