وینکی راماکرشنن برطانیہ کی رائل سوسائٹی کے نئے صدر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارتی نژاد پروفیسر کرشنن کیمبریج کی ' لیبارٹری آف مولکیولر بائیولوجی' میں کام کرتے ہیں

کیمبریج یونیورسٹی میں پروفیسر اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان پروفیسر سر وینکی راماکرشنن برطانیہ کی رائل سوسائٹی کے نئے صدر ہونگے۔ وہ اس برس یکم دسمبر کو اپنا عہدہ سنبھالے گے۔

پروفیسر کرشنن کو سنہ 2009 میں سائنس کے شعبے میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

فی الوقت سر پال نرس رائل سوسائٹی کے صدر ہیں جو روایت کے مطابق پانچ برس مکمل ہونے پر یکم دسمبر کو اپنے فرائض سے فارغ ہوجائے گیں۔

بدھ کو رائل سوسائٹی کی کونسل کے اجلاس کے بعد پروفیسر کرشنن کے نام کا اعلان کیا گيا۔ اس اعلان کے بعد پروفیسر راماکرشنن نے بی بی سی بات کرتے ہوا کہا کہ ان کے نام کا انتخاب کرکے رائل سوسائٹی نے انہیں 'عزت بخشی ہے'۔

ان کا مزید کہنا تھا ' مجھے بہت خوشی ہے کہ رائل سوسائٹی نے اس عہدے کے لیے میرا انتخاب کیا ہے کیونکہ مجھے امریکہ سے برطانیہ آئے محظ سولہ برس ہوئے ہیں۔

بھارتی نژاد پروفیسر کرشنن کیمبریج کی ' لیبارٹری آف مولکیولر بائیولوجی' میں کام کرتے ہیں۔ اس لیبارٹری کے چودہ سائنسدانوں کو نوبل اعزاز سے نوازہ جا چکا ہے۔

اس سے پہلے جب پروفیسر کرشنن کو 2009 میں نوبل اعزاز ملنے کی فون پرخبر ملی تھی تو بہت دیر یہی سمجھتے رہے تھے شاہد یہ ایک جعلی کال تھی، رائل سوسائٹی کے صدر منتخب کیے جانے کی خبر بھی ان کے لیے اتنی ہی چونکا دینی والی ہے۔

رائل سوسائٹی کے دیگر رسرچ فیلوز اور پروفیسروں نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سوسائٹی کے موجودہ صدر پروفسیر نرس نے وہاں کام کرنے کے طریقے کے سخت نظام بنائے ہیں جن کا معیار قائم رکھنا مشکل کام ہوگا۔

جس کارنامے کے لیے انہیں نوبل اعزاز دیا گیا تھا وہ رسرچ انہوں نے امریکہ میں کی تھی اور انہوں نے اپنی بیشتر پیشہ وارانہ زندگی وہی گزاری ہے۔

وہ سنہ 1999 میں کیمبریج آئے تھے۔ پروفیسر نرس بھی نوبل اعزاز یافتہ سائنسدان ہے اور اس سے قبل جتنے بھی صدر ہوئے ان میں سے بیشتر نوبل اعزاز یافتہ تھے۔

حالانکہ یہ بات دلچسپ ہے کہ ابھی تک ایک بھی بار کسی خاتون کو سوسائٹی کا صدر نہیں بنایا گیا ہے۔

رائل سوسائٹی کے فیلو اور میڈیکل رسرچ کونسل کے سربراہ سر کولن بلیک مور نے پروفیسر کرشنن کی نامزدگی کے بارے میں کہا کہ ' ان کا انتخاب کئی معنی میں اچھی خبر ہے۔ پہلا تو یہ کہ ایک بھارتی نثاد کے سائنسدان کو رائل سوسائٹی کا صدر بنانا برطانوی سائنس میں غیر برطانوی سائنسدانوں کے کردار سے متعلق مثبت پیغام دیتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کرشنن نہ صرف ایک اچھے سائنسدان ہیں بلکہ ان کی قیادت میں رائل سوسائٹی سائنس سے متعلق پالیسیاں بنانے میں حکومت کے لیے بے حد مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔'

اسی بارے میں