دم بخود کر دینے والا سورج گرہن

Image caption بے شمار افراد کبھی کبھار ظاہر ہونے والے فطرت کے اس منظر کو دیکھنے کے لیے بےتاب تھے

برطانیہ اور شمالی یورپ میں کروڑوں لوگوں نے کئی برسوں کے بعد جمعے کو دم بخود کردینے والا سورج گرہن دیکھا ہے۔

جب سورج کو گرہن لگتا ہے تو چاند، سورج اور زمین کے درمیان آ جاتا ہے جس سے زمین کا ایک بڑا حصہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔

فیرو کے جزائر کے اوپر ایک جہاز سے بی بی سی کے کیمرے نے اس فلکی نظارے کی حیران کر دینے والی فوٹیج بنائی۔

سورج گرہن گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح نو بج کر 41 منٹ پر تکمیل کو پہنچا۔

چاند کے سورج اور زمین کے درمیان آ جانے کی وجہ سے سب سے پہلے شمالی بحرِ اوقیانوس میں ایک سایہ بنا جو بڑھتے بڑھتے بحرِ منجمد شمالی پر پہنچا اور قطبِ شمالی پر جا کر ختم ہوا۔

بے شمار افراد کبھی کبھار ظاہر ہونے والے فطرت کے اس منظر کو دیکھنے کے لیے بےتاب تھے، تاہم ماہرین نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ وہ سورج کو براہِ راست نہ دیکھیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ گرہن کے دوران بھی سورج کی طرف دیکھنے سے آنکھوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ تاہم سورج گرہن کو محفوظ انداز سے دیکھنے کے بھی طریقے ہیں اور کئی افراد نے جمعے کےگرہن کو انہی محفوظ طریقوں کی مدد سے دیکھا۔

برطانیہ بھر میں یہ سورج گرہن 83 فیصد تک پہنچا اور تاریک تر لمحات صبح نو بج کر 35 منٹ پرریکارڈ کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بہت سے ماہرینِ فلکیات اور شوقین افراد نے اس منظر کو دیکھنے کے لیے جگہوں کا انتخاب کیا تھا

تاہم بھر پور تاریکی کا تعلق عرضِ بلد یا دیکھے جانے کے مقام پر بھی منحصر تھا۔ مثلاً کورنوال میں پینزینس کے مقام پر بھر پور تاریکی صبح نو بج کر 23 منٹ پر ریکارڈ کی گئی جبکہ شیٹ لینڈ کے جزائر میں ایک مقام لیرویک میں بھرپور تاریکی کا وقت صبح نو بج کر 43 منٹ تھا۔

بادلوں کی وجہ سے یہ منظر واضح نہیں تھا۔ برطانیہ میں اس طرح کا سورج گرہن دوبارہ 2026 تک نہیں دیکھا جا سکے گا۔ تاہم زمین کے کم ہی حصے براہِ راست اُس راستے پر تھے جو سائے کی وجہ سے بنا۔

بحیرۂ ناروے میں آرکٹک کے دائرے سے کچھ نیچے گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح نو بج کر 46 منٹ پر تاریک ترین لمحات ریکارڈ کیے گئے۔

بہت سے ماہرینِ فلکیات اور شوقین افراد نے اس منظر کو دیکھنے کے لیے جگہوں کا انتخاب کیا تھا۔ کچھ فیرو کے جزائر میں تھے، جہاں تورشواں کے دارالحکومت میں صبح نو بج کر 41 منٹ پر دو منٹ کے لیے مکمل سورج گرہن ہوا۔

جو افراد بادلوں کی وجہ سے یہ منظر نہ دیکھ سکے، انھیں انٹر نیٹ کی شکل میں سورج گرہن دیکھنے کے لیے ایک اچھا بدل مل گیا۔ سائنسی اداروں نے یہ منظر دکھانے کے لیے جہازوں حتیٰ کہ سیٹلائٹس کا بھی انتظام کیا تھا جہاں سے یہ مناظر ویڈیو، ٹیلی ویژن اور ویب پر دکھائے جا رہے تھے۔

برطانیہ میں موسم توقع سے کچھ بہتر ہو گیا تھا اورٹھیک وقت پر کئی جگہوں سے بادل چھٹنا شروع ہوگئے تھے۔ تاہم جنوب مشرقی برطانیہ اور لندن میں لوگوں کو بادلوں سے بھرا آسمان ہی دیکھنے کو ملا۔

دریں اثنا ریڈنگ میں ایک یونی ورسٹی کی ٹیم اس منظر پر تحقیق کر کے جاننا چاہتی ہے کہ جب زمین پر چاند کا سایہ پڑتا ہے تو فضا کا ردِ عمل کس طرح کا ہوتا ہے۔ نیشنل ایکلپس ویدر ایکسپیریمنٹ نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ گرہن کے وقت اپنے علاقوں کے حالات ریکارڈ کریں۔

پروفیسر جائلز ہیرسن کے مطابق ’1999 کے بعد برطانیہ میں یہ سب سے بڑا جزوی سورج گرہن تھا جبکہ آئندہ یہ منظر اگست 2026 میں دیکھا جا سکے گا۔

’لہذٰا یہ ایک ایسا موقع تھا جو نسلوں میں ملا کرتا ہے۔ جمعے کو جو ہوا، اس پر غور کر کے ہم اصل میں برطانوی آسمانوں کو ایک بہت بڑی موسمیاتی لیبارٹری میں تبدیل کر رہے ہیں جس سے ہمیں ایک نادر موقع ملے گا کہ جب سورج نہ رہے تو کیا ہوتا ہے۔

’ہمیں معلوم ہو گا کہ سورج بادلوں اور ہواؤں کو کیسے متاثر کرتا ہے اور درجۂ حرات پر کیا اثرات ڈالتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بادلوں کی وجہ سے یہ منظر واضح نہیں تھا

’موسموں میں تبدیلوں کے بارے میں اپنی سمجھ بوجھ میں اضافہ کر کے ہم بہتر پیش گوئیاں کر سکتے ہیں اور موسم کے بارے میں بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں۔‘

ایک چیز جو اس تجربے سے معلوم کیے جانے کی توقع ہے وہ ’گرہن کے نتیجیے میں پیدا ہونے والی آندھی‘ ہے۔

اس کا تعلق ہوا میں ہونے والی ان تبدیلیوں سے ہے جب گرہن کے وقت تاریکی چھا جا جاتی ہے اور اس منظر کو دیکھنے والے اس صورتِ حال پر غور کر رہے ہوتے ہیں۔

دریں اثنا اوکسفرڈ یونیورسٹی کے سائنس دان جمعے کے سورج گرہن سے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس سے بجلی کے گرڈز کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔

سورج گرہن سے شمسی پینلوں سے ملنے والی بجلی میں کمی آئی ہو گی۔ اس طریقے سے یورپ میں بجلی کی کافی زیادہ ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔ تحقیق کار دیکھیں گے کہ اس گرہن سے گرڈ نیٹ ورک کے استحکام میں کتنا خلل پڑا۔

اگلے برس نو مارچ کو مکمل سورج گرہن ہو گا جو سومارٹا، بورنیو، سلاویسی سےگزرتا ہوا بحرِ الکاہل تک پھیلے گا۔

اسی بارے میں