’مریخ کی تیاری‘: بارہ ماہ کے خلائی سفر کا آغاز

خلا نورد
Image caption تینوں خلا نورد میں سے دو خلائی سٹیشن میں بارہ مہینے گزارے گے جبکہ ایک چھ ماہ بعد زمین پر واپس آ جائیں گے

امریکی خلا نورد سکاٹ کیلی اور روسی خلا نورد میخائل کورنینکو 12 مہینے تک خلا میں قیام کے لیے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

یہ زمین سے 250 میل دور واقع اس خلائی سٹیشن پر کسی خلاباز کا بھی سب سے لمبا قیام ہو گا۔

اس مشن کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ خلا میں لمبے عرصے تک قیام کا انسانی جسم پر کیسا اثر ہوتا ہے۔

خلائی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اس سے ملنے والا ڈیٹا بڑا کارآمد ثابت ہو گا کیونکہ ایک دن انھیں مریخ کا مشن بھی شروع کرنا ہے۔

ناسا کے مطابق کیلی اور کورنینکو کا سویز راکٹ قزاقستان کے شہر بیکانور سے اڑا اور سنیچر کو خلائی سٹیشن سے جڑ گیا۔

ان کے ساتھ اس پرواز میں خلا نورد جیناڈی پادلکا بھی موجود ہیں لیکن ان کا قیام خلائی سٹیشن پر صرف چھ ماہ تک رہے گا۔

اگرچہ کیلی اور کورنینکو انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر طویل ترین قیام کا ریکارڈ قائم کریں گے لیکن روس کے پرانے خلائی سٹیشن میر پر کئی خلانورد اس سے بھی زیادہ رہ چکے ہیں۔

میر خلائی سٹیشن پر چار خلا نورد مختلف اوقات میں ایک سال سے زیادہ رہے ہیں، جبکہ والیری پولی یاکوف نے 95-1994 میں مدار میں 437 دن گزارے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق لانچ سے پہلے ایک پریس کانفرنس میں کورنینکو نے کہا کہ ’آخری مرتبہ ہم نے اتنی لمبی فلائٹ 20 برس پہلے کی تھی اور یقینی طور سائنسی تکنیک اب 20 سال پہلے کی نسبت مزید بہتر ہو چکی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خلائی سفر کے دوران اس بات پر تجربات کیے جائیں گے کہ لمبحے عرصے تک خلا میں رہنے سے انسانی جسم پر کس طرح کے اثرات پڑتے ہیں

’اور اب ہمیں اس بات کا تجربہ کرنا ہے کہ لمبی مدت تک کے لیے فلائٹس پر انسانی صلاحیت کیسی رہتی ہے۔ سو ہماری پرواز کا بنیادی مقصد اپنے آپ کو ٹیسٹ کرنا ہی ہے۔‘

کیلی نے کہا کہ ’یہاں ایک فرق یہ بھی ہے کہ ہم اسے بین الاقوامی پارٹنرشپ کے ساتھ کر رہے ہیں، اور اگر ہمیں دنیا کے گرد نچلے مدار سے دوبارہ آگے نکلنا ہے، جو شاید مریخ ہو، اور اس پر آنے والی لاگت اور پیچیدگی کی وجہ سے یہ ایک بین الاقوامی مشن ہی ہوگا، اس لیے ہم اسے اس کی طرف ایک قدم ہی سمجھ رہے ہیں۔‘

میر خلائی سٹیشن کے دور سے لے کر اب تک صفر کششِ ثقل میں رہنے کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے بہت کام کیا جا چکا ہے اور توقع ہے کہ کیلی اور کورنینکو اپنے سے پہلے کے خلا نوردوں کے مقابلے میں اچھی صحت میں واپس لوٹیں گے۔

مناسب خوراک اور ورزش کے معمول سے ہڈی کی کثافت میں کمی اور پٹھوں میں کمزوری اس طرح نہیں ہوتی جن کا پہلے خلا نورودں کو سامنا کرنا پڑتا تھا۔

تاہم کچھ اور مسائل بھی ہیں جن کو ڈاکٹروں نے دیکھنا اور سمجھنا ہے۔

ان کے پاس مدافعتی نظام پر اس کے اثر کے متعلق ڈیٹا بہت محدود ہے مثال کے طور پراس بات پر بہت تشویش ظاہر کی جاتی ہے کہ خلائی سفر کے دوران آنکھوں پر بہت اثر پڑتا ہے۔ اس پر پہلے غور نہیں کیا گیا تھا اور حال ہی میں اس کو اہمیت دی گئی اور لگتا ہے کہ اس کا تعلق بے وزن جسم میں مائع کی تقسیم سے ہے۔

خلا میں بے وزن رہنے سے کھوپڑی اور آپٹک نرو یا بصری اعصاب میں دباؤ بڑھتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے خلا نورد جب زمین پر آتے ہیں تو اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ان کی بصارت ویسی نہیں ہے جیسی پہلے تھی۔

کیلی اور کورنینکو کو بارہ مہینے خلا میں رکھنے سے اس بات کی نگرانی کی جائے گی کہ اس طرح کی پیچیدگیاں کس طرح بڑھ سکتی ہیں۔

کیلی کے ساتھ ایک اور بھی دلچسپ معاملہ ہے۔ ان کا ایک جڑواں بھائی بھی ہے جو خود بھی خلا نورد تھا اور امریکی خلائی ایجنسی کے ساتھ بڑا عرصہ منسلک رہنے کے بعد 2011 میں ریٹائر ہوا۔

ان دونوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے گا: ایک کا خلا میں اور دوسرے کا زمین پر۔

ریلیٹیوٹی تھیوری یا نظریہ اضافیت کے مطابق سکاٹ کیلی کو زمین کے اوپر رہنے کی وجہ سے اپنے بھائی کی نسب کم بوڑھا ہونا چاہیے، لیکن ہر سال صرف چند ملی سیکنڈ ہی کا فرق پڑے گا۔

اسی بارے میں