نوجوانوں میں ’ای سگریٹ‘ کا بڑھتا ہوا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کٹرونک سگریٹ اصل سگریٹ کے اثرات کی نقالی کرتے ہیں اور ایسے بخارات پیدا کرتے ہیں جو اصل سگریٹ سے کم نقصان دہ ہوتے ہیں۔ تاہم ان بخارات میں عام طور پر نیکوٹین موجود ہوتی ہے جو نشہ آور ہے

محققین کے مطابق برطانیہ میں اکثر نوجوان الیکٹرانک سگریٹ پینے کا تجربہ کر رہے ہیں اور ان میں ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جنہوں نے کبھی تمباکو نوشی نہیں کی۔

14 سے 17 سال کی عمر کے 16,193 نوجوانوں سے ایک جائزے میں پوچھے گئے سوالوں کے مطابق پانچ میں سے ایک نے ای سگریٹ خریدا یا تجرباتی طور پر استعمال کیا۔

’بی ایم سی پبلک ہیلتھ‘ کے محقیقین کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ نیکوٹین کی دنیا میں بہت مقبول ہو رہے ہیں اور ان پر کنٹرول سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معلوم کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے کہ کتنے نوجوان اس کے عادی بن رہے ہیں۔

الیکٹرانک سگریٹ اصل سگریٹ کے اثرات کی نقالی کرتے ہیں اور ایسے بخارات پیدا کرتے ہیں جو اصل سگریٹ سے کم نقصان دہ ہوتے ہیں۔ تاہم ان بخارات میں عام طور پر نیکوٹین موجود ہوتی ہے جو نشہ آور ہے۔

ای سگریٹ کے بارے میں لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کو سگریٹ نوشی ترک کرنے میں مدد دینے کے لیے ایک اہم جزو قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ سگریٹ نوشی کی جانب لے جاتے ہیں۔

لیورپول جان مورس یونیورسٹی کے ایک سروے میں حصہ لینے والوں میں سے 19 فیصد جوابدہندگان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’ویپنگ‘ یعنی ای سگریٹ کا استعمال کیا ہے۔

سروے کے مطابق ای سگریٹ استعمال کرنے والوں میں سے پانچ فیصد نوجوانوں نے کبھی تمباکو نوشی نہیں کی تھی جبکہ 50 فیصد سابقہ سگریٹ نوش تھے اور 67 فیصد ہلکی تمباکو نوشی کرتے تھے۔

ای سگریٹ کا تعلق ان نوجوانوں میں زیادہ پایا گیا جو شراب نوشی کرتے ہیں یا جن کے والدین سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

پروفیسر مارک بیلیس نے بی بی سی کو بتایا کہ بیشتر لوگوں کے لیے یہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کو تمباکو کا متابادل سمجھنے کے بجائے لوگ اس کو ایک اور نشہ آور چیز ہے سمجھ کر تجربہ کر رہے ہیں۔

نکوٹین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ای سگریٹ اس انتہائی نشہ آور محلول کو بہت گاڑھا کر کے پیش کرتے ہیں۔ ہمیں اس بارے میں بہت احتیاط برتنی چاہیے اور یہ بھی کہ ہم اپنے نوجوانوں کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں‘۔

اینگلینلڈ میں 18 سال سے کم عمر بچوں کو ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے اور ایسے ہی اقدامات پر ویلز، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں بھی زیرِ غور ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ’الیکٹرونک سگریٹ انڈسٹری ٹریڈ یونین‘ کی صدر کیتھرین ڈیولِن کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ ای سگریٹ تک بچوں کی رسائی ایک انتہائی تشویشناک بات ہے‘۔

’تاہم سروے میں فقط ایک بار کے استعمال کو ریکارڈ کیا گیا۔ اس میں ایسی معلومات نہیں ہیں کہ آیا وہ اس کا باقائدہ استعمال شروع کر دیتے ہیں یا نہیں‘۔

’دیگر اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ یہ بعید اذ قیاص ہے۔ بہرحال ہم امید کرتے ہیں کہ ’ای سگریٹ خریدنے والوں کی‘ عمر پر متعارف کرائی گئی نئی پابندیاں اس تعداد کو کم کر سکیں گی‘۔

’آفس آف نیشنل سٹیٹسٹکس‘ یا محکمہ قومی اعداد و شمار کے مطابق ای سگریٹ استعمال کرنے والوں میں زیادہ تر موجودہ یا سابقہ سگریٹ نوش ہیں۔

اسی بارے میں