’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘نے دوبارہ کام شروع کر دیا

ایل ایچ سی تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption منصوبے کے مطابق اس مشین سے فائر کی گئی پروٹون کی دو شعاعیں ایل ایچ سی کے طویل سرکٹ میں سے گزریں گی اور اگر یہ پروٹون کسی مسئلے کے بغیر پورا چکر کاٹ لیتے ہیں تو پھر مئی میں دو مختلف سمتوں سے آنے والی نہایت تیز رفتار پروٹونز کی شعاعوں کو آپس میں ٹکرایا جائے گا

’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ (ایل ایچ سی) نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے جس میں 2013 کے بعد پہلی مرتبہ مشین کی 27 کلومیٹر سرنگ میں پروٹونز چکر لگا رہے ہیں۔

اس سائنسی لیبارٹری میں بنے ہوئے متوازی پائپوں میں ذرات کی شعاعوں نے دونوں طرف تقریباً روشنی کی رفتار سے سفر کرنا شروع کر دیا ہے۔

کم از کم ایک ماہ تک ان ذرات میں ٹکراؤ نہیں ہوگا لیکن اس مرتبہ ایل ایچ سی کے اندر یہ ٹکراؤ اس سے دو گنی توانائی سے ہوگا جس سے پہلے ہوا تھا۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ انھیں سٹینڈرز ماڈل سے ہٹ کر ’نئی طبیعیات‘ کی جھلک دکھائی دے گی۔

ایل ایچ سی کے نگران ادارے سرن کے ڈائریکٹر جنرل رالف دائتر ہیوئر نے انجینیئروں اور سائنسدانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ’بہت بہت شکریہ، اب مشکل کام شروع ہو رہا ہے۔‘

سرن کے ایکسیلیریٹرز اور ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر فریڈرک بورڈری نے کہا کہ ’دو سال کی کوشش کے بعد، ایل ایچ سی ایک عمدہ حالت میں ہے۔‘

’لیکن سب سے اہم مرحلہ اس وقت آئے گا جب ہم ان شعاعوں کی توانائی ریکارڈ سطح تک بڑھا دیں گے۔‘

یہ کرنیں شیڈیول سے ایک ہفتہ تاخیر سے آئی ہیں جس کی وجہ ایک الیکٹریکل نقص تھا جو اب ٹھیک کر لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مشاہدے میں آنے والے نئےذرے کی دریافت سے یہ پتا چلانے میں مدد مل سکتی ہے کہ مادہ کا وجود کیسے عمل میں آتا ہے

سرن کے ڈی جی نے کہا کہ ’میں بہت خوش ہوں اور میری طرح کنٹرول سینٹر میں سبھی لوگ۔‘

شروع میں پروٹونز کو کم توانائی میں پھینکا جائےگا۔ لیکن آنے والے مہینوں میں سائنسدان امید کرتے ہیں کہ وہ شعاعوں کی توانائی 13 کھرب الیکٹرو ولٹس تک بڑھا دیں گے جو کہ ایل ایچ سی کے پہلے آپریشن سے دو گنا ہو گی۔

8:30 جی ایم ٹی پر انجینیئروں نے پروٹون بیم کو اس بڑے چکر میں ایک کے بعد ایک کر کے چھوڑنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد متوازی طور پر دوسری بیم چھوڑی گئی۔

تجرباتی ٹیموں نے پہلے ہی ذرات کے ’چھینٹے‘ دیکھے تھے جب پروٹون اس شٹر سے ٹکرائے تھے جو بیم کو ٹریک پر رکھتے ہیں۔

ماہرِ طبیعیات پارٹیکل فزکس کے موجودہ سٹینڈرڈ ماڈل سے بہت مایوس ہو گئے ہیں۔ یہ 17 سب اٹامک ذرات کو بیان کرتا ہے جس میں 12 سے مادہ مل کر بنا ہے اور پانچ ’طاقت کو لے کر چلنے والے ہیں۔‘ ان میں سے ہگز بوسون بھی ایک ہے جسے ایل ایچ سی میں 2012 میں دریافت کیا گیا تھا۔

سوئٹزرلینڈ اور فرانس کی سرحد پر بنائی گئی ستائیس کلومیٹر طویل سرنگ میں قائم لارج ہیڈرون کولائیڈر میں سائنسدان ابتدائے کائنات کے رازوں کو جاننے کی کوشش کر رہے اور وہ ذرات کو آپس میں ٹکرا کر اس عنصر کی تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے تخلیق کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکےگے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مشاہدے میں آنے والے نئےذرے کی دریافت سے یہ پتا چلانے میں مدد مل سکتی ہے کہ مادہ کا وجود کیسے عمل میں آتا ہے۔

اس سے قبل جولائی 2012 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں ’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘ منصوبے سے وابستہ سائنسدانوں نے ہگس بوسون یا ’گاڈ پارٹیكل‘ جیسے ذرے کی دریافت کا دعویٰ کیا تھا۔

ہگس بوسون وہ تخیلاتی لطیف عنصر یا ’سب اٹامک‘ ذرہ ہے جسے اس کائنات کی تخلیق کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

سائنسدان گزشتہ پینتالیس برس سے ایسے ذرے کی تلاش میں تھے جس سے یہ واضح ہو سکے کہ مادہ اپنی کمیت کیسے حاصل کرتا ہے اور اس دریافت کا اعلان جنیوا میں ایل ایچ سی سے وابستہ سائنسدانوں کی ٹیم نے کیا۔

ہگس بوسون کی تھیوری کے خالق پروفیسر پیٹر ہگس ہیں جنہوں نے ساٹھ کے عشرے میں سب سے پہلے یہ نظریہ پیش کیا تھا۔

اسی بارے میں