منزل سےباخبر ننھے کچھوے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحقیق میں دو تین سال کی عمر کے کچھوے استعمال کیے گئے جبکہ سمندری کچھوے دس سے بیس سال عمر میں جنسی بلوغت کو پہنچتے ہیں

ایک تازہ ترین مطالعے کے مطابق سمندر میں بظاہر لہروں کے رحم و کرم پر دیکھے جانے والے چھوٹے کچھوے مسلسل ایک خاص سمت میں سفر جاری رکھنے کی بھرپور کوشش میں رہتے ہیں۔

یاد رہے کہ کچھوے کے بچے اکثر دس برس کے لیے سمندر میں غائب ہو جاتے ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ ان ’غائب برسوں‘ میں وہ لہروں پر بے جان اشیاء کی طرح بے سمت سفر کرتے رہتے ہیں۔

تازہ ترین مطالعے میں امریکی سائنسدانوں نے خلیجِ میکسیکو میں 44 جنگلی کھچووں کے سفر کا جائزہ لیا جن پر انھوں نے سیٹلائیٹ ٹیگ لگائے ہوئے تھے اور ان کے سفر کا تقابل سمندر میں تیرتے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں کے سفر سے کیا۔

حیاتیات کے جریدے ’کرنٹ بیالوجی‘ میں شائع ہونی والی اس تحقیق کے بارے میں ڈاکٹر کیٹ مینسفیلڈ کا کہنا ہے کہ ’یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں ایک بے جان شے اور سمندر سے پکڑے ہوئے جنگلی کچھوے کے بچوں پر ٹیگ لگا کر انھیں چھوڑا گیا اور اس مفروضے کا جائزہ لیا گیا کہ آیا کچھوے کے بچے واقعی ’بے جان مسافر‘ ہوتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اگرچہ کچھوے زیادہ وقت سمندری پودوں کے نیچے گذارتے ہیں لیکن یہ مسلسل تیرتے کی جدوجہد کرتے رہتے ہیں

اس تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر کیٹ مینسفیلڈ ہیں جو یونیورسٹی آف فلوریڈا سے منسلک ہیں۔

ڈاکٹر مینسفیلڈ اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق کا مقصد کچھووں کی عادات کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کرنا تھا تا کہ اس جانور کے بچاؤ کی تدابیر کو بہتر بنایا جا سکے۔

یاد رہے کہ سمندر میں سات مختلف قسم کے کچھوے پائے جاتے ہیں اور ان تمام اقسام کو خاتمے کے خطرے کا سامنا ہے۔

اپنی تحقیق کے لیے ڈاکٹر مینسفلیڈ اور ان کے ساتھی ڈاکٹر نیتھن پُٹمین کو سمندر سے جنگلی کچھوے کے بچے پکڑنا پڑے اور ان پر خاص طور سے بنائے ہوئے سیٹلائیٹ ٹیگ لگانا پڑے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے ڈاکٹر پُٹمین کا کہنا تھا کہ سمندر سے ایسے بچے پکڑنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ’یہی وجہ ہے کہ کچھوے کی زندگی کے ان برسوں کو گمشدگی کے سال کہا جاتا ہے کیونکہ اس دوران ان کی نشاندھی کرنا اور انھیں سمندر سے پکڑنا نہایت کٹھن کام ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحقیق میں کچھوے کے 44 بچوں پر شمسی توانائی سے چلنے والے ٹریکر لگائے گئے تھے

’کئی مرتبہ آپ ساحل سے 100 کلومیٹر دورگہرے سمندر تک چلے جاتے ہیں اور آپ کو ایک کچھوا بھی دکھائی نہیں دیتا۔‘

’اور کبھی ایک مہم میں آپ کو دس بچے دکھائی دیتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے وہ تمام ایک عمر یا حجم کے نہیں ہوتے۔‘

اس کے علاوہ کئی مرتبہ جب ٹیم کو خوش قسمتی سے بچے مل بھی گئے تو وہ غلط قسم کے تھے۔ ٹیم کا خیال تھا کہ اسے ’کیمپ رِڈلی‘ نسل کے کچھوے آسانی سے مل جائیں گے کیونکہ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ اس نسل کے کچھوے خلیج میکسیکو کے ساحل پر ہی انڈے دیتے ہیں۔

لیکن ٹیم کو معلوم ہوا کہ اگرچہ ’سبز سمندری کچھوے‘ اپنے انڈے خلیج کے ساحل سے ایک ہزار میل دور ایک دوسرے ساحل پر دیتے ہیں لیکن ان کے بچے خلیجِ میکسیکو کے ساحل کے قریب پانیوں میں مل جاتے ہیں۔

ڈاکٹر پُٹمین کے بقول ’تحقیق کے پہلے ڈیڑھ برس میں ہم ایک بھی کچھوے کو ٹیگ نہیں کر سکے، لیکن اس کے بعد ہم نے گرین ٹرٹل یا سبز کچھووں کو ٹیگ لگانے کی سرکاری اجازت لے لی اور تجربات کا آغاز کر دیا۔‘

تحقیق کے لیے سبز کچھوے کے 24 اور کیمپ رڈلی قسم کے 20 بچوں پر ٹیگ لگائے گئے اور ہر ایک یا دو بچوں کے ساتھ ٹیگ لگائے ہوئے لکڑی کے دو ٹکڑے بھی سمندر میں چھوڑے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تتجربے سے سائنسدانوں کو لکڑی کے بے جان تختوں اور زندہ کچھووں کے سفر کے درمیان موازنے کا موقع ملا۔

اس تجربے سے سائنسدانوں کو بے جان لکڑی اور زندہ کچھووں کے سفر کے درمیان موازنے کا موقع ملا۔

’ہم جاننا چاہتے تھے کہ لہروں پر اس سفر میں لکڑی اور تیرتے ہوئے کچھوے کے بچوں کے راستے ایک دوسرے سے کتنے مختلف تھے۔‘

ڈاکٹر پُٹمین کے مطابق ’سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ جب ہم نے ان دونوں کے راستوں کا موازنہ کیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ کچھووں کا راستہ لکڑی کے راستے سے بالکل مخلتف تھا۔ یعنی لہروں کے رحم و کرم پر تیرتے ہوئی لکڑیاں بہت جلد ہی اس راستے سے دور ہو گئیں جو لہروں سے لڑتے ہوئے کچھوں نے اپنایا تھا۔‘

’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھوے کے بچے بڑے مستعد تیراک ہوتے ہیں۔‘

سمندری لہروں کے ماڈل کی بنیاد پر سائنسدانوں کی ٹیم نے کچھوے کے ان بچوں کی تیرنے کی رفتار کا بھی جائزہ لیا۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ارد گرد کی لہروں کے مقابلے میں ان بچوں کی تیرنے کی رفتار بہت زیادہ نہ تھی بلکہ یہ بچے چند سینٹی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار پر تیر رہے تھے۔

لیکن ڈاکٹر پُٹمین کے بقول جو چیز سب سے زیادہ متاثر کن تھی وہ یہ تھی کہ کچھوے کے بچے مسلسل ایک خاص سمت میں تیرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں