مطلقہ افراد کو ہارٹ اٹیک کا زیادہ امکان

Image caption برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ طلاق کو دل کی بیماری کا بڑا سبب قرار دینے سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے

امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق مطلقہ افراد کو شادی شدہ افراد کی نسبت دل کا دورہ پڑنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

15 ہزار سے زیادہ افراد پر کی جانے والی اس تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ دل کی بیماری کی شرح عورتوں میں زیادہ ہے اور شادی شدہ عورتیں مردوں کی نسبت اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

’جنرل سرکولیشن‘ نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ طلاق کی وجہ سے پیدا ہونے والے ذہنی تناؤ سے جسمانی اعضا متاثر ہوتے ہیں۔

دوسری جانب برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ طلاق کو دل کی بیماری کا بڑا سبب قرار دینے سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

یہ ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ کسی قریبی عزیز کی موت سے دل کا دورہ پڑنے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے اور اب ڈیوک یونیورسٹی کی ٹیم کی اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلاق سے بھی کچھ اسی قسم کا اثر پڑتا ہے۔

سنہ 1992 سے 2010 کے درمیان کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق طلاق یافتہ خواتین میں شادی شدہ خواتین کی نسبت دل کا دورہ پڑنے کا امکان 24 فیصد زیادہ ہوتا ہے اور جن کی ایک سے زیادہ دفعہ طلاق ہوئی ہو، ان کو دل کی بیماری ہونے کا امکان 77 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

دوسری جانب مطلقہ مردوں کو دل کا دورہ پڑنے کے امکان میں صرف دس سے 33 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم کی ایک رکن پروفیسر لِنڈا جارج کا کہنا ہے کہ ’طلاق سے دل کا دورہ پڑنے کا امکان اتنا ہی بڑھ جاتا ہے جتنا ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشرسے بڑھتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر عورتیں دوبارہ بھی شادی کر لیں تو ان میں بیماری کا خطرہ کچھ زیادہ کم نہیں ہوتا لیکن مردوں میں دوبارہ شادی کرنے سے دل کے دورے کا امکان کافی کم ہو جاتا ہے۔‘

پروفیسر لنڈا جارج کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’مرد مختلف خواتین کے ساتھ خوشی خوشی زندگی گزارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ دوسری جانب خواتین اپنی پہلی شادی میں خود کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں اس لیے طلاق سے ان کی صحت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔‘

مدافعتی نظام پر اثر؟

تحقیق کرنے والی ٹیم کو پتہ چلا ہے کہ طرزِ زندگی میں ردوبدل، جیسا کہ آمدنی میں کمی وغیرہ دل کی بیماری لاحق ہونے کے امکان میں اضافے کی وضاحت نہیں کرتا۔

پروفیسر لنڈا جارج کے مطابق طلاق سے انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے جس سے مدافعتی نظام متاثر ہوتا ہے اور اگر یہ سلسلہ زیادہ عرصہ چلتا رہے تو انسانی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

دوا سے بلڈ پریشر تو کنٹرول کیا جاسکتا ہے مگر طلاق کا دکھ کم نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ محققین کاکہنا ہے کہ سچے دوست اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن سے وابستہ پروفیسر جیرمی پیرسن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں کافی عرصہ سے معلوم ہے کہ ذہنی صحت ہمارے دل کو متاثر کرتی ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلاق سے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے لیکن یہ تحقیق سو فیصد حتمی نہیں ہے۔‘

پروفیسر جیرمی کامزید کہنا تھا کہ ’طلاق کو دل کی بیماری ہونے کی اہم وجہ قرار دینے سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں