یوٹیوب ویڈیوز سے غیرمعمولی غار کا مطالعہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کئی دہائیوں تک اس جگہ سے قریبی مقامات پر آبپاشی کے لیے پانی نکالا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ جگہ خرابی کا شکار ہوئی ہے

سائنسدان یوٹیوب پر پوسٹ ہونے والی ویڈیوز کی مدد سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے کچھ فاصلے پر ایک غیر معمولی غار کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

زمین کا پانی غار کے اندر’دحل حیث‘ کو جو نہانے کے تالاب جیسا مقام ہے، بھر دیتا ہے اور اختتامِ ہفتہ پر یہ جگہ شہر کے ان رہائشیوں کے لیے جو اس انتہائی خشک علاقے میں ٹھنڈک کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں، نہانے کا ایک مقبول مقام بن گیا ہے۔

لیکن کئی دہائیوں تک اس جگہ سے قریبی مقامات پر آبپاشی کے لیے پانی نکالا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ جگہ خرابی کا شکار ہوئی ہے۔ تاہم اب یہاں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔

محققین نے یو ٹیوب پر ویڈیوز کو دیکھ کر یہاں نہانے والوں کی جانب سے غار کی دیواروں پر بنائے گئے نقش ونگار کی مدد سے پانی میں اضافے کا پتہ چلایا ہے۔ ریسرچ کرنے والے دیواروں پر لکھی تحریروں یا بنی ہوئی تصویروں کو حوالہ بنا کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ پانی کہاں سے آیا ہے۔

غار کی دیواروں پر لکھی چند تحریروں پر تاریخیں بھی درج ہیں جبکہ کچھ ویڈیوز سے بھی وقت اور تاریخ کا علم ہوا ہے۔ اور اس تمام ڈیٹا سے ریسرچ کرنے والوں کو ان حالات کا ایک نقش تیار کرنے کا موقع ملا ہے جس سے دحل حیث کے ماضی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

جرمنی میں زمینی سائنس کے مطالعہ کے انسٹیٹیوٹ سے وابستہ نیلس مچلسن کہتے ہیں ’چونکہ سمارٹ فون بہت مقبول ہو گئے ہیں اور ان کی ویڈیو کوالٹی بھی کافی اچھی ہے لہٰذا اس طرح کا ڈیٹا (جیسا غار سے ملا ہے) قابلِ استعمال ہے۔ کچھ سال پہلے شاید لوگ اس طرح کے ڈیٹا پر تنقید کرتے اور اسے ناقابلِ استعمال قرار دے دیتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پانی کی سطح اتنی تیزی سے بلند ہوئی ہے کہ کچھ نقش ونگار جو حوالے کا کام دیتے تھے، اب پانی میں ڈوب گئے ہیں

غار کا یوں مطالعہ، سوشل میڈیا کے ذریعے قیمتی سائنسی معلومات کی تلاش کے اہم رجحان کی ایک واضح مثال پیش کرتا ہے۔ محقیقین اب ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارم بھی استعمال کر رہے ہیں جہاں سے انھیں تصاویر اور اہم الفاظ مل جاتے ہیں۔اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے رہنے والوں نے نے سیلاب کی حد معلوم کرنے کے لیے ٹویٹس سے فائدہ اٹھایا تھا

تاہم مچلسن کا کہنا ہے کہ اس طرح کا ڈیٹا جیسا غار سے ملا ہے، اس کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ یہ طریقہ بہت پائیدار آغاز فراہم کرتا ہے۔

انھوں نے دحل حیث میں بنائی گئی چالیس کے قریب ویڈیوز کا مطالعہ کیا ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ دو برس کے دوران یہاں پانی کی سطح میں چالیس سینٹی میٹر اضافہ ہوا ہے۔ پانی کی سطح اتنی تیزی سے بلند ہوئی ہے کہ کچھ نقش ونگار جو حوالے کا کام دیتے تھے، اب پانی میں ڈوب گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’سمارٹ فون بہت مقبول ہو گئے ہیں اور ان کی وڈیو کوالٹی بھی کافی اچھی ہے لہٰذا اس طرح کا ڈیٹا (جیسا غار سے ملا ہے) قابلِ استعمال ہے‘

خیال ہے کہ نہانے کے اس غار سے تقریباً دس کلو میٹر کے فاصلے پر فضلہ پھینکا جا رہا ہے جس سے اس تالاب میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ غار میں پانی کے کیمائی تجزیے سے اس دعوے کو تقویت ملتی ہے۔

اسی بارے میں